Showing posts with label نزلہ. Show all posts
Showing posts with label نزلہ. Show all posts

Thursday, December 20, 2012

بند ناک کو کھولنے کا انوکھا طریقہ

ناک کی اندرونی جھلیوں‘ ہڈیوں کے جوڑوں اور گزرگاہوں میں سوزش ہوجانے کی علامت یہ ہیں: مریض مسلسل چھینکتا رہتا ہے‘ناک بہتی رہتی ہے‘ ایک یا دونوں نتھنے بند ہوجاتے ہیں‘ سر میں درد ہوتا ہے اور دماغ بوجھل محسوس ہوتا ہے۔ درد زیادہ تر ماتھے اور آنکھوں کے نیچے چہرے کی ہڈیوں ور دانتوں میں ہوتا ہے۔ ہلکے ہلکے بخار کے علاوہ بھوک بھی ختم ہوجاتی ہے۔ سانس لینے میں بھی تکلیف ہونے لگتی ہے جس کی وجہ سے مریض خود کو بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہے۔ ناک کی جھلیوں میں سوزش کے باعث مریض کی آواز بھی بھاری ہوجاتی ہے۔
اسباب: یہ مرض نزلہ و زکام کے بعد ناک‘ گلے اور سر کے اندر کی جانب کی نازک جھلیوں اور گزرگاہوں میں بلغم جم جانے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ یہ بلغم‘ خون میں زہریلے مادوں کی پیدا کردہ خراش اور سوزش کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ اطبا کہتے ہیں کہ درحقیقت جھلیوں کی سوزش ناقص غذا کا بھی نتیجہ ہوتی ہے جب کوئی شخص باقاعدگی سے خاص قسم کی غذا کھاتا اور خاص قسم کے مشروبات پیتا رہتا ہے تو وہ ان کا عادی ہوجاتا ہے جس سے اس کے جسم پر ان کے اثرات بھی رونما ہونے لگتے ہیں ایسے لوگوں میں سے بعض افراد ناک سے متعلق متعدد اقسام کے الرجی کیلئے بہت حساس ہوجاتے ہیں اور اس کا ردعمل ناک کی جھلیوں کی سوزش یا مستقلاً ورم کی صورت میں نکلتا ہے۔
علاج: اس مرض کے علاج کیلئے غلط غذاؤں کی تلافی کرنا بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ مریضوںکو پہلے قدم کے طور پر متوازن غذاؤںکا استعمال شروع کردینا چاہیے اور اپنے کھانوں میں نمک کی مقدار کم سے کم کردینی چاہیے کیونکہ نمک جسمانی ٹشوز میں پانی جمع کرتا ہے اور جسم میں سے کیلشیم خارج کرتا ہے۔ جن دنوں مرض کی شدت ہو اور بخار بھی ہو تو مریض کوٹھوس غذا کے بجائے زیادہ تر تازہ پھلوں اور سبزیوںکا جوس پینا چاہیے جو اس کی مقدار کے برابر اس میں پانی ملا ہوا ہونا چاہیے۔ مرض کی شدت ختم ہوجانے کے بعد مریض کو بتدریج اچھی متوازن غذا کھانے کا سلسلہ شروع کردینا چاہیے جو تین بنیادی فوڈ گروپوں یعنی بیجوں‘ بادام‘ اخروٹ‘ مونگ پھلی۔ سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل ہو۔
دوا سے علاج: وٹامن اے کی حامل غذائیں زکام اور جھلی کے ورم کے خلاف مؤثر مدافعت کرتی ہیں۔ ان غذاؤں میں بالائی نکالے بغیر دودھ‘ دہی‘ انڈے کی زردی‘ کدو‘گاجر‘ پتوں والی سبزیاں‘ ٹماٹر‘ کنو مالٹا‘ آم اور پپیتا شامل ہیں۔ جھلی کے ورم کا مرض پرانا ہوچکا ہو تو وٹامن اے بطور دوا استعمال کرانے سے فوری آرام آجاتا ہے۔ معالجین بتاتے ہیں کہ ناک کی جھلیوں کی سوزش میںمبتلا مریضوں کو وہ دوا کے ذریعے وٹامن اے اور وٹامن سی کا استعمال کرواتے ہیں۔
غذا بطور دوا: اوپر تو ہوئی ایلوپیتھک طریقہ علاج کی بات لیکن ایک اور مؤثر ترین دیسی نسخہ بھی ہے۔ یہ نسخہ لہسن اور پیاز ہے انہیں کھانے سے تنفس کی نالی میں جمع شدہ بلغم صاف ہوجاتا ہے۔ یہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں روزانہ کھائیے اور ناک کی جھلیوں کی سوزش میں مبتلا مریض انہیں اپنے کھانوں کا باقاعدہ حصہ بنالیں تو اس سے بہت مفید نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ گاجر‘ چقندر‘ کھیرے اور پالک کے جوس الگ الگ یا آپس میں ملا کر پیجئے۔ اس سے بھی بہت فائدہ پہنچتا ہے۔
پانی بطور دوا: ناک کی جھلیوں کی سوزش کے باعث سانس کا راستہ بند ہونے لگتا ہے اور سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ طبیعت میں چڑچڑا پن آجاتا ہے اور منہ کے ذریعے سانس لینے کے باعث حلق خشک اور زبان پر کانٹے پڑنے لگتے ہیں۔ اس صورت حال میں بند ناک کھولنے اور جھلیوں کی سوزش سے ہونے والی تکلیف کو فوری طور پر دور کرنے کیلئے اسٹیم یعنی کہ بھاپ کو استعمال کیا جاتا ہے۔
بھاپ لینے کا طریقہ: اس کا طریقہ یہ ہے کہ کسی پتیلی میں پانی بھر کر ڈھکن ڈھانپ کر اسے ابال لیں اور جب پانی کھولنے لگے تو اسے چولہے سے اتار لیں کچھ دیر بعد اپنے اوپر ایک چادر یا بڑا تولیہ اوڑھ کر چہرے کو پتیلی کے قریب کرلیں اور اس کا ڈھکن اتار لیں۔ اس میں سے نکلنے والی بھاپ کو ناک کے ذریعے کھینچنے کی کوشش کریں جب بھاپ ناقابل برداشت محسوس ہو چہرہ باہر نکال کر پونچھ لیں۔ یہ عمل اس وقت تک کریںجب تک بھاپ موجود رہے۔ تکلیف زیادہ ہو تو ہر گھنٹے کے بعد پانچ منٹ کیلئے گرم پانی کی بھاپ میں گہرے سانس لیجئے۔ اس سے جما ہوا بلغم جلدی چھٹ جاتا ہے سوزش کم ہونے لگتی ہے اور سانس لینا آسان ہوجاتا ہے اگر مرض میں شدت نہ ہو لیکن ناک کی جھلیوں کی سوزش کا مرض موجود ہو تو چوبیس گھنٹوں میں ایک بار خاص کر سونے سے پہلے بھاپ لینے سے مرض میںافاقہ ہوتا ہے اور رات کو نیند کے دوران سانس لینے میں بھی آسانی رہتی ہے۔ مرض کی شدت کے دوران آرام کرنے اور تازہ ہوا میں سانس لینے کا بھی اہتمام کیجئے۔
پرہیز: مریض کو تلی ہوئی اور نشاستہ دارکھانے پینے کی اشیاء‘ سفید شکر‘ سفید آٹا‘ چاول‘ کیک‘ پیسٹری‘ ٹافیوں‘ میدے کی سویوں‘ حلوہ وغیرہ مصالحہ دار اشیاء اورگوشت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ میٹھا کھانے کو دل چاہے تو شہد استعمال کریں۔ تمام پکے ہوئے کھانے تازہ حالت میں کھائیے۔ سبزیاں وافر مقدار میں استعمال کریں۔ تمام پھل کھائے جاسکتے ہیں لیکن لیموں‘ کنو مالٹے اور چکوترے سے پرہیز کریں۔ دودھ خوب پیجئے کیونکہ اس میں کیلشیم ہوتا ہے جو کہ جسم کے ٹشوز کی سوزش کو دور کرنے کیلئے بہت مفید ہے۔ اس مرض کے مریضوں کو پرفیومز کے استعمال سے بھی پرہیز کرنا چاہیے علاوہ ازیں سگریٹ نوشی‘ دھول اور دھوئیں والے ماحول سے بھی دور رہا جائے

Sunday, January 2, 2011

نزلہ

٭چھوہارہ بلغمی امراض کیلئے نہایت فائدہ مفید ہے۔ نزلہ زکام میں دو تین چھوہارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے تھوڑے سے پانی میں بھگو دیں جب پھول جائیں تو بمعہ پانی دیگچی میں ڈال دیں اور ایک پاو کے قریب دودھ ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں جب خوب عرق نکل آئے تو اتار لیں۔ چھوہارے کھا کر نیم گرم دودھ پی کر سوجائیں۔ تین چار دن عمل کریں اس سے دماغی کمزوری بھی دور ہوجائے گی۔

الرجی/ نزلہ
میری عمر30سال ہے مجھے بچپن ہی سے الرجی یا نزلہ کی شکایت ہے۔ دھول مٹی اور دھوئیں سے میری ناک میں سوزش ہوتی ہے، پھر ناک سے پانی کی طرح ریشہ بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی رات میں بھی ناک بہنا شروع ہو جاتی ہے۔ جسے صاف کرنے کیلئے ایک رومال بھی ناکافی ہوتا ہے۔ یہ ریشہ ناک سے حلق میں گرتا ہے، جسے بار بار تھوکنا پڑتا ہے۔ میں ریشہ اتنا تھوکتا ہوں کہ پلاسٹک کا شاپر اچھا خاصا بھر جاتا ہے۔ ریشہ تھوکنے کے ساتھ ساتھ میرے سینے سے سیٹی جیسی آوازیں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے۔ بادام اور چھوہارے کھانے سے نزلہ تو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن سانس کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ بیماری کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہو گیا ہوں ۔ مہربانی فرما کر ایسا نسخہ بتائیں جس کے باقاعدہ استعمال سے میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جاﺅں میری سانس کی بیماری دور ہو جائے۔(رب نوا ز.... کراچی)
جواب :یہ دمہ کی شکایت ہے ۔کشتہ طلاءکلاں اصلی دو چاول عمدہ اصلی خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا پر ڈال کر صبح کھائیں سوتے وقت لعوق صنوبر اصلی ایک چائے کی چمچی کھائیں۔ اسطخدوس کا جوشاندہ دن میں دو بار پئیں۔ شدید ضرورت پر انہیلر یا کوئی بھی علاج ہمراہ لیتے رہیں۔ وہ تمام پرہیز کریں جو اس سلسلے میں ہم لکھتے ہیں اور غذا بھی ہمارے مشورو ں کے مطابق کھائیں۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ اگر درست علاج میسر آجائے اور غذائی پرہیز اور سردی سے مکمل بچاﺅ رہے تو شفا یابی یقینی ہے( ان شاءاللہ)۔ دمہ کوئی مستقل یا لاعلا ج مرض نہیں ہے ۔ اکثر مریضوں کو تو پرہیز کا ہی پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے؟ اکثر کے ذہن میں الرجی جیسا مبہم لفظ ہوتا ہے وہ دھویں، گرد سے بھاگتا رہتا ہے۔ سردی گرمی خشکی تری کے بنیادی فلسفے سے اس کی واقفیت صفر ہوتی ہے تو بچاﺅ اور پرہیز کیسا؟غذا کے معاملے میں چارٹ سے غذا نمبر 3 استعمال کریں ۔

نزلہ، کیرا
سوال : حکیم صاحب !عرصہ سالہا سال میں میرے گلے میں کیر ا گرتا ہے ۔ بار با رتھوکنا اور کھا نسنا پڑتا ہے ۔ سردیو ں میں اور ٹھنڈی چیز کھا نے سے مر ض بڑھ جا تاہے ۔ اس کی ابتداءکچھ اس طر ح ہوئی کہ مجھے مخصوص ایام کے دوران ایک شادی میں جانا ہو ا۔ وہا ں ہر قسم کی خوراک اور غذا کو بغیر احتیا ط سے استعمال کیا ۔ بالکل توجہ نہیں کی ۔ کئی دن تک یہ بے احتیاطی چلتی رہی ۔ پھر بھی میں نے پر واہ نہیں کی ۔ آخر کا ر میرے مخصوص ایام ڈسٹرب ہوئے اور پھر یہ نزلہ شروع ہو ا جو کہ کیرا بن گیا ۔ اب میں کسی محفل یا کسی کے گھر نہیں جا سکتی کیو نکہ با ر با ر تھوکنا معیو ب اور برا لگتا ہے ۔ اس کے لیے الرجی ٹیسٹ بھی کرا ئے ہیں ۔ لیکن افا قہ نہیں ہوا۔وقتی طور پر الر جی کی ادویا ت کھا نے سے فا ئدہ ہو جا تاہے لیکن پھر ویسے ہی طبیعت ہو جا تی ہے ۔ میری ایک ملنے والی نے آپ سے علا ج کر ایا ۔ انہیں بہت فائدہ ہوا لہذا میرے لیے کوئی دوا تجویز کریں۔ (عالیہ جبیں ، خانیوا ل )
جوا ب : سب سے پہلے تو آپ غذائی بے احتیا طی چھوڑ دیں اور خاص طور پر کھٹی ، ٹھنڈی اور بادی چیزو ں سے مکمل پرہیز کریں ۔ مندرجہ ذیل نسخہ مکمل توجہ اور دھیا ن سے کچھ عرصہ استعمال کریں ۔
ھوالشا فی : کلونجی باریک کر کے رکھیں ۔ اطریفل اسطخدوس کاایک چھوٹا چمچہ چائے والا گرم پانی کے کپ میں گھول کر اس میں ایک چو تھا ئی چمچہ کلونجی ڈال کر حل کر کے پی لیں اور او پر سے کوئی ٹھنڈا پانی یا ٹھنڈی غذا ہر گز ہر گز استعمال نہ کریں ۔ اس طر ح صبح و شام کھا نے سے قبل استعمال کریں ۔ چارٹ سے غذا نمبر 2 مکمل پرہیز کے ساتھ استعمال کریں ۔

الرجی، دائمی نزلہ اور موسم سرما
(قارئین آپ کے لیے قیمتی موتی چن کر لاتا ہوں اور چھپاتا ہوں، آپ بھی سخی بنیں اور ضرور لکھیں، ایڈیٹر: حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی)

پاکستان کے بالائی علاقے خاص طور پر اسلام آباد اور اس سے اوپر کے تمام پہاڑی علاقوں میں توت کا درخت الرجی کا سبب ہے۔ حکومت اپنی تمام کوششوں کے باوجود اس درخت کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکی۔ ایک درخت کاٹنے کے بعد اور بہت سے درخت نمودار ہو جاتے ہیں۔ کیا الرجی کا یہی ایک سبب ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ الرجی کے اسباب بے شمار ہیں۔ ہماری موجودہ مصنوعی زندگی جس میں بند گھر، غیرروشن اور تاریک کمرے، کارپٹ، مصنوعی غذائیں، مشروبات اور پرفیوم وغیرہ الرجی کی چند ایک وجوہات ہیں۔ میرا تجربہ ہے دیہات سے زیادہ شہر میں الرجی کہیں زیادہ ہے۔ آخر آلودگی بھی تو اپنا اثر کرتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر موسم سرما میں الرجی اور نزلہ کا علاج کیسے ممکن ہے اور وہ کونسے طریقے ہیں جن کو اپنا کر ہم الرجی اور نزلے سے بچ سکیں۔ یاد رکھیے ایسی غذائیں جو موسم سرما میں ان دو بیماریوں کا سبب بنتی ہیں ان سے ضرور بچا جائے۔ کھٹی، ٹھنڈی اور بادی چیزوں کا استعمال یقینا ان مریضو ں کیلئے بہت نقصان دہ ہے۔ دوران سفر ٹھنڈی ہوا، کسی تقریب میں ایسی غذاﺅں کا استعمال جو آپ کے مرض میں اضافے کا ذریعے بنے، بالکل استعمال نہ کریں۔ اینٹی الرجی گولیاں کھا کر ہم مرض کو وقتی طور پر دبا دیتے ہیں لیکن یہ اندر ہی اندر بڑھتا اور پھیلتا رہتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات وہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ دمہ اور دائمی سانس کی تنگی، سانس کا پھولنا ، نیند کی کمی، ٹینشن اور بے چینی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو اس سے دائمی کھانسی خشک یا بلغم کے ساتھ شروع ہو جاتی ہے۔ قارئین مرض دبائیں مت بلکہ اس کے اندر رہنے کی نسبت اس کا باہر نکلنا بہتر ہے۔ آج عالمی سطح پر جہاں صاف پانی کا فقدان ہے وہاں الرجی اور دائمی نزلہ بہت زیادہ ہے۔ وینس کے عظیم سائنس دان ولراسمتھ کے بقول بعض بیماریوں کو بالکل معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے لیکن وہ امراض دراصل معمولی نہیں ہوتے بلکہ ان کے مابعد اثرات عام بیماریوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ولراسمتھ مزید کہتے ہیں کہ میری معالجانہ زندگی میں اکثر تجربات میں یہ بات بار بار آئی ہے کہ میں نے پھیپھڑوں، گلے، گلینڈر اور ناک کے کینسر کے مریضوں کی ستر فیصد وجہ دراصل الرجی اور دائمی نزلہ پائی ہے اور موسم سرما میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مرطوب اور بھاری ہوا کی وجہ سے جراثیم کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ دھوپ کی کمی، نمدار فضائیں ان جراثیموں کیلئے موزوں ترین جگہیں ہیں کیونکہ گرما کے موسم میں دھوپ اور تمازت تیز ہوتی ہے اس لیے جراثیم یا تو ختم ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ آئیے یہ دیکھیں کہ ہم ان بیماریوں سے کیسے نجات حاصل کریں۔ ایک صاحب پرانی الرجی میں مبتلا تھے اور دائمی نزلہ اس کی ابتداءتھا میں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چندقطرے روغن زیتون سوتے وقت ناک کے دونوں نتھنوں میں ڈالیں اور زور سے اوپر کھینچے۔ چند روز ایسا کرنے سے انہیں بہت فائدہ ہوا اور یہ ٹوٹکہ بار بار کا آزمودہ ہے۔ اگر آپ کسی پرانی الرجی اور الرجی کے دمے میں مبتلا ہیں یا پرانے نزلے، ناک کا مستقل بند ہونا، رات کو نیند میں اس کی وجہ سے خلل پڑنا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں تو آپ اگر مندرجہ ذیل ترکیب آزمائیں تو انشاءاللہ زندگی بھر کیلئے یہ بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔ ہاں مستقل مزاجی سے کچھ عرصہ ادویات استعمال ضرور کریں۔ جلدبازی ہرگز نہ کریں۔ اطریفل اسطخدوس کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی ایک چمچہ چھوٹا ایک گرم پانی کے کپ میں گھول لیں اور تھوڑا تھوڑا کرکے پی لیں۔ دن میں تین بار یا کم از کم 2بار صبح و شام استعمال کریں۔ انشاءاللہ تعالیٰ پرانی الرجی اور پرانے نزلے کا اکسیری علاج ہے۔
ہوالشافی: پودینہ، خشک اجوائن دیسی، دونوں ہم وزن کوٹ کر سفوف تیار کریں اور آدھا چمچ دن میں تین بار پانی یا چائے کے ہمراہ استعمال کریں۔ کچھ عرصہ کے استعمال سے انشاءاللہ مرض بالکل ختم ہو جائے گا۔ اگر ٹھنڈ سے احتیاط اور مذکورہ بالا ادویات کچھ عرصہ مستقل استعمال کر لی جائیںتو موسم سرما میں یہ مرض بالکل بڑھ نہیں سکتا ۔انشاءاللہ۔

ڈسٹ الرجی سے نجا ت
یہ نسخہ اپنی بیوی کو دیا۔ اس کو چھینکیں نہیں رکتی تھی پھر کبھی چھینک نہ سنی۔ کھٹہ شریں1کلو ۔کلونجی 250گرام ۔ہالیہ 100گرام۔ کا سنی 50گرام۔ میتھرے 50گرام۔ یہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نسخہ ہے ایک چمچہ صبح وشام ،بلغم ،ڈسٹ الرجی اور نزلہ زکام میں بھی مفید ہے۔ اعصابی کمزوری کے لیے فائدہ مند ہے ۔کزن کی چچی کا بھی یہ حال تھاکہ اس کو نزلہ اور چھینکیںہر وقت آتی تھیں اس کو بھی یہی نسخہ 2ماہ تک استعمال کرایا ،سال ہوگیا پھر یہ تکلیف نہیں ہوئی۔


ضروری نہیں کہ اچھی صحت وا لے افرا د سرد ہو اﺅں کے اثرات سے بہر حال محفوظ رہیں ۔ کیونکہ ہمارے مشاہدے کے مطابق اچھے خاصے تندرست اور صحت مند حضرات بھی اس مہینے اچانک نزلہ زکا م کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ نہ صرف اچانک ہوا کا لگ جا نا یا گرم ماحول سے ایک دم سرد ماحول میں جا نکلنا ہی ہے ۔ بلکہ گرم تاثیر والی غذاﺅں میںمعمولی سی بے اعتدالی بھی اندرونی طور پر نزلہ و زکا م کی محرک و مو جب ہو جا یا کر تی ہے ۔ ایسی حالت میں جہاں سر اور نا ک وغیر ہ کو سر د ہو اﺅں سے حتی الامکان بچائے رکھنا حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری ہے۔ بلکہ ان کے جلد از جلد ازالہ کے لیے ذیل نسخہ بھی ان کے لیے بے حد سو د مند ہے ۔

نسخہ
سبز چائے چوتھائی چھوٹا چمچہ۔ سبز الا ئچی ایک عدد۔ بادیاں خطائی چوتھا ئی چمچہ ۔ دار چینی چار رتی ۔ پانی ایک پا ﺅ ۔ تین چار جو شیریں ، ہلکی سی چینی ملا کر دن میں تین مرتبہ حفظ ما تقدم کے طور پر استعمال کریں ۔ اگر ہو سکے تو خمیرہ گا ﺅ زبان 4/4 ماشہ دن میں تین مرتبہ استعمال کریں ۔ اگر سر در د تیز ہو تو اس قہو ہ میں تین ما شے کے قریب اسطخدوس کا اضافہ کر دیں۔ اورصحت یاب ہو جا ئیں۔ اگر ہلکا سا بخار بھی ساتھ ہو تو گل بنقشہ ، عنا ب ، ملٹھی کا جوشاندہ پیئں غذا نرم اور بغیر چکنا ئی کے کھائیں ۔

میرا نزلہ عبقری سے درست ہوا
مجھے نزلہ رہتا تھا بلکہ اب تو بہت کم ہوتا ہے کیونکہ آپ کے رسالے عبقری میں میں نے شہد اور ادرک کاقہوہ پڑھا تھا وہی علاج کرتی ہوں الحمدُ ﷲبہت فرق پڑا ہے۔
اﷲتعالیٰ” عبقری “رسالے کو ترقی عطافرمائیں (آمین ثمہ آمین)اور ایک آزمایا ہوا علاج لکھ رہی ہوں ہوسکے تو عبقری میں شائع کردےجئے شاید کسی پریشان حال بیمار کو شفا مل جائے۔کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ چونکہ مجھے نزلہ ہی رہتا تھا تو میرا گلا آگے کی طرف سے بڑھنے لگا۔ زیادہ نہیںبڑھا تھا۔ بار بار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا تھا میں بہت پریشان تھی ڈاکٹر کہتے تھے کہ آپریشن ہوگا کیونکہ تھائی رائےڈ گلینڈز کا مسئلہ ہے۔ مگر میں بہت پریشان تھی۔ایک دن یونہی ایک ڈاکٹر کو دکھایا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تو ابتداءہے آپریشن نہ کرواﺅ بلکہ ایسا کرو کہ ایک کچی پیاز بغیر دھوئے کاٹ کرکھانے کے ساتھ روزانہ دوپہرکے وقت استعمال کرو ۔میں نے ویسا ہی کیا اور تیسرا مہینہ پیاز کھاتے نہ گزرا تھاکہ گلا بالکل ٹھیک ہو کر اپنی اصلی حالت پر آگیا۔

نزلہ زکام
-1 نزلہ زکام کی صورت میں نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر دن میں تین بار غرارے کریں۔
-2 آٹے کا چھان 6 گرام ایک کپ پانی میں جوش دیں۔ چھان کر نمک شامل کر کے گرم گرم پئیں اور چادر اوڑھ کر لیٹ جائیں تاکہ کھل کر پسینہ آجائے۔
-3 تخم کتان 12گرام ‘کا کڑاسنگھی 12 گرام‘ ملٹھی مقشر6 گرام سفوف بنا کر ½یا 1 گرام پانی کے ساتھ تین وقت نزلہ و زکام اور کھانسی میں بے حد مفید ہے۔
-4 نزلہ زکام میں ایک وقت کا فاقہ بھی مفید ہے۔

نزلہ و زکام کے لیے
نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال ازحد مفید ہے۔ صبح وشام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کرکے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔

”یَااَللّٰہُ یَاسَلاَمُ“ کا انوکھا کمال

”یَااَللّٰہُ یَاسَلاَمُ“ کا انوکھا کمال (منصور احمد،تونسہ شریف)

یہ 1990ءکی بات ہے۔ ملازمت میں میری ترقی ہوئی اور مجھے دور دراز علاقے میں بھیج دیا گیا۔ وہاں کچھ ایسی نوعیت کا کام تھا کہ ہر طرف ڈیزل، پٹرول اور لوہے رگڑنے کی بُو تھی اور ویلڈنگ کا دھواں بھی بہت تھا۔
علاقہ ایسا کہ شہر کے اندر مختلف جگہوں پر کئی کئی سالوں کے جوہڑ موجود تھے۔ گرمیوں کا موسم تھا۔ شام کے وقت کافی حبس ہوجاتی تھی۔ ایک عجیب صورت حال تھی جو میری طبیعت برداشت نہیں کررہی تھی۔ صحت کے بہت سے مسائل پیدا ہورہے تھے اور ساتھ ہی نزلہ زکام ہوگیا۔ بس ناک سے پانی ہی پانی بہہ رہا تھا۔ رکنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ زکام کا علاج کروایا کوئی افاقہ نہیں ہوا۔
طب کے علاج کرائے، ایلوپیتھی کے علاج کرائے، ہومیو پیتھی کو آزمایا، چھوٹے چھوٹے ٹوٹکے آزمائے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کوئی بھی جو نسخہ بتاتا میں آزماتا چلا گیا لیکن زکام نے میری جان نہ چھوڑی۔ دو سال کے بعد میں اسلام آباد گیا الرجی سنٹر سے ٹیسٹ کرایا۔ ڈاکٹر صاحبان کے علاج کئے فائدہ نہیں ہوا۔ اب ناک کے غدود مقدوم ہوگئے اور غدود نے ناک بند کردی۔ 1998ءمیں نشتر ہسپتال سے ناک کا آپریشن کرایا۔ تین چار ماہ کے بعد غدود دوبارہ بڑھنے لگے۔ زکام بحال تھا اور ناک دونوں طرف سے بند ہوگئی ۔ میں دوبارہ آپریشن نہیں کرانا چاہتا تھا۔ سر بوجھل جیسے دماغ نہیں ایک پھوڑا ہے۔ ہر چار گھنٹے کے اندر مجھے نیند کی ضرورت ہوتی۔
ملازمت بھی کرتا رہا اور تکلیف بھی برداشت کرتا رہا۔ میرا ہر دن بے چین اور ہر رات بے سکون تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں نے سوچا کہ سامنے والے میڈیکل سٹور کی تمام دوائیں کھالوں تو پھر بھی میرا زکام ٹھیک نہیں ہوگا۔
میری حالت ناقابل بیان اور ناقابل برداشت تھی۔ ای این ٹی کے ڈاکٹرز اور پروفیسرز سے ملا۔ سب آپریشن کی بات کرتے تھے جو میں دوبارہ نہیں کرانا چاہتا تھا۔
ناک کو نمک والے پانی سے دھوتا اور دن میں تین چار مرتبہ بھاپ دیتا۔ رات کو موٹے کپڑے سے سر کو ڈھانپتا۔ ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا میرے لئے موت کا پیغام لاتا تھا۔ اب صرف ایک راستہ رہ گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکا جائے اور اس کے ناموں کا سہارا لیا جائے۔
ہم سارے گھر کے افراد اکٹھے ہوئے اور ”یااللہ یاسلام“ کا ذکر شروع کردیا۔ ہم نے چند نشستوں میں ایک لاکھ مرتبہ یہ ورد کیا اور اس کے بعد بھی پڑھتے رہے۔ کچھ دنوں کے بعد میں حسب معمول ڈیوٹی پر گیا۔ اخبار میں ایک مضمون ناک کی بیماریوں کے متعلق تھا۔ پڑھا! حکیم صاحب نے تجویز کیا کہ ناک کے غدود کو ریٹھا کاٹتا ہے۔ نسوار بناکر سونگھ لیا کریں۔ میری ناک تو کئی سال سے متواتر بند تھی۔ میں ناک میں ریٹھا ڈالنے لگا۔ یہ عمل بڑا تکلیف دہ تھا۔ روزانہ ایک سفید جھلی اترجاتی تھی۔ اور تقریباً ایک ماہ کے اندر میرے ناک کی ایک سائیڈ کلیر ہوگئی۔ میں نے یہ دوائی جاری رکھی۔ ایک سائیڈ کھل گئی اور دوسری سائیڈ کا غدود چھوٹا ہوگیا لیکن اس کا وجود باقی رہا۔ زکام میں افاقہ تھا۔ سر کا بوجھ بھی ختم ہوگیا اور کچھ سکون ملا۔ جینے میں دلچسپی دوبارہ عود کر آئی۔ پھر میرے ہاتھ پر ایک سفید نشان نمودار ہوا۔ اسپیشلسٹ کو دکھایا۔ اس نے دوائی تجویز کی اور ایک ٹیکہ لگوانے کا کہا۔ یہ عمل کیا اور تقریباً دس دن کے بعد نہ زکام رہا اور نہ غدود کا نام و نشان رہا لیکن ہاتھ پر سفید نشان ابھی باقی ہے۔ ٹھیک نہیں ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے ناموں اور صفات کی برکت سے میری رہنمائی کی اور میں اٹھارہ سال کے بعد اس بیماری سے ٹھیک ہوا۔ اللہ تعالیٰ اسباب بنادیتے ہیں اور ساری طاقتیں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ کہاں سات سات سو روپے کے نیزل سپرے اور انٹی بائیوٹک اور کہاں دو روپے کا ریٹھا۔
مجھے نہ ریٹھے نے ٹھیک کیا اور نہ ٹیکے نے۔ صرف اللہ تعالیٰ نے شفاءبخشی۔ تمام بہن بھائیوں سے گزارش ہے کہ کسی دوائی پر، کسی ڈاکٹر پر اور کسی حکیم پر بھروسہ نہ کریں۔ یہ صرف اسباب ہیں جو اللہ تعالیٰ مہیا فرما دیتے ہیں۔ یہ سب مادی وسائل ہیں اورجو اللہ تعالیٰ پیدا فرما دیتے ہیں۔ جب کوئی مشکل یا ناگہانی آفت آپ کو گھیرلے تو فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور اسی سے رابطہ میں رہیں۔