اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں (جس کے بعد شفا ہو جاتی ہے) تو وہی مجھ کو شفا دیتا ہے۔
Thursday, January 6, 2011
پیاز اور شہد سے کھانسی ختم
Sunday, January 2, 2011
عقیدے اور زمزم سے شفایابی
ایک صاحب پرانی کمر درد میں مبتلا تھے۔ عرصہ دراز سے حصول شفا کے لئے ہر در کو چھانا۔ کئی طبی روحانی اورسائنسی تدابیر اختیار کیں لیکن شفا بالکل نہ ملی۔ کسی نے ڈسک پرابلم، کسی نے پٹھوں اور کمر کے عضلات کا کھنچائو، کسی نے کیا کہا اور کسی نے کیا۔ آخر کار ایک صاحب ملے جو اسی مرض میں مبتلا اور پھر شفا یاب ہوئے، وہ کہنے لگے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں خود اس مرض میں مبتلا تھا حتیٰ کہ جھکنا تو بڑی بات ہے چلنا پھرنا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔دن رات اس پریشانی میں مبتلا، کسی پل چین اور سکون نہیں ملتا تھا۔ کاروبار زندگی ٹھپ ہو گیا۔ کبھی انجکشن ،کبھی گولی۔ کوئی ترکیب اور تدبیر نہ چھوڑی۔ ایک تاجر نے مجھے کہا کہ میں بھی اسی مرض میں مبتلا تھا مجھے کسی نے بتایا کہ خالص زم زم خالص عقیدہِ شفا کے ساتھ چند گھونٹ یا جتنا میسر ہو دن میں 3بار( اول و آخر دو بار درود ابراہیمی ایک بار سورہ فاتحہ 3بار سورة اخلاص پڑھ کر) پی لیں ۔ خواتین بھی یہ عمل ہر حالت میں پڑھ اور کر سکتی ہیں۔
جب میں نے ایسا کرنا شروع کیا تو چند ہی دنوں میں مجھے شفایابی کی قوی امید نظر آئی اور بتدریج شفایاب ہونے لگا اور آج میرا حال یہ ہے کہ الحمد للہ میں بالکل صحت مند ہوں۔ میرے دیکھنے والے حیران ہیں۔قارئین کرام! موصوف سے جب یہ حال سن رہا تھا تو اس جیسے بیشمار واقعات ذہن میں گردش کرنے لگے اور بار بار قلم اٹھانے کو دل چاہا کہ کیوں نہ ان واقعات کو سمیٹ کر قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں اور کائنات کے لوگوں کو بتائوں کے عقیدے سے شفایابی کا بہترین ذریعہ زم زم ہے۔
دوحہ قطر کے ایک صاحب نے اپنا واقعہ بیان کہا کہ ان کے خالو بیک وقت بے شمار امراض میں مبتلا ہو گئے۔ طرح طرح کے علاج کیے۔ مالدار تھے آخر امریکہ کے ایک بڑے ڈاکٹر سے وقت لیا اور علاج کی غرض سے وہاں گئے۔ اچھے وقت میں 9لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ وقتی آرام کے بعد مرض پہلے سے زیادہ غلبہ اختیار کر گیا۔ اب حالت بالکل مایوسی تک پہنچ گئی۔ کسی نے یہ زم زم والی ترکیب بتائی۔ چونکہ ہرطرف سے مایوس ہو چکے تھے اس لئے بہت بھروسے اور اعتماد سے زم زم کا روحانی علاج شروع کیا۔ ایک رات پیٹ میں سخت مروڑ اٹھا اور یہ بھول گئے کہ میں مریض ہوں اور میں تو چل پھر نہیں سکتا۔ یکایک اٹھے اوربیت الخلا میں گئے۔ بدبو دار سیاہ رنگ کا بہت مقدار میں پاخانہ آیا، فارغ ہو کر جب باہر نکلے تو احساس ہوا کہ میں تو مریض تھا اور میں چل پھر نہیں سکتا تھا اور اب یہ سب کچھ کیسے اور کیا ہوا۔ حیرت انگیز بات ہے بس ایک یقین سا دل میں اتر گیا کہ یہ اس روحانی عمل اور زم زم پر سو فیصد یقین کی شفا یابی کی تاثیر ہے۔ عمل جاری رکھا اور وہ ایسے صحت یاب ہوئے کہ لوگوں کو یقین بھی نہ آتا تھا۔ پھر موصوف نے ایک بڑی دعوت کی اور بیشمار لوگوں کو مدعو کیا اور اس عمل کے بارے میں جب بتایا تو بہت سے ڈاکٹر، انجینئر اور یورپی سائنسدان بھی اس تقریب میں شامل تھے۔ موصوف کی باتوں پر اور پھر ان کی سابقہ اور موجودہ اجلی اور نکھری صحت کو دیکھ کر لوگ حیران ہو گئے۔ 3غیر مسلم مسلمان ہوئے اور اس محفل میں موجود سرجن اور ڈاکٹر یہ عمل اپنے لاعلاج مریضوں کو بتانے لگے۔ جو صاحب یہ واقعہ مجھے سنا رہے تھے، بتانے لگے کہ میرے خالو نے ان سب ڈاکٹرز اور معالجین سے رابطہ رکھا ۔اس رابطے کے بعد جو اعداد وشمار دیئے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو احاطے میں آسکے ورنہ اس سے فیض پانے والوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز ہے ( یہ اعداد وشمار انہوں نے مختلف شہروں اور ملکوں سے اکھٹے کئے)۔ کینسر کے 944 مریض، الرجی کے 392 مریض، دمہ کے 138 مریضوں، دماغی کمزوری کے 336مریض، چہرے کے بالوں اور حسن وجمال کے 521 مریض، اعصابی کمزوری اور تھکان کے 2200 مریض، خواتین میں بالوں کا گرنا 812مریض، فالج لقوہ اور بستر پر پڑے مریض 1310، ہیپاٹائٹس 723 مریض، دماغی رسولی 76مریض، ڈپریشن، ٹینشن کے 1805مریض، شیزوفرینا 218مریض، موٹاپا 1221 مریض خون کی کمی کے 107 مریض۔قارئین خالو جان نے عرصہ دراز تک رابطے اور مطالعے کے بعد مریضوں کے اعداد وشمار اکٹھے کئے۔ آپ کسی بھی مرض میں مبتلا ہوں ،بس بھروسہ اعتماد اور خالص عقیدہ ضروری ہے۔یہ عمل کچھ عرصہ لگاتار کر کے دیکھیں اور پھر اس کا کمال دیکھیں آپ نے بھی کوئی تجربہ کیا یا سنا ہو تو ضروری تحریر کریں۔
نزلہ
٭چھوہارہ بلغمی امراض کیلئے نہایت فائدہ مفید ہے۔ نزلہ زکام میں دو تین چھوہارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے تھوڑے سے پانی میں بھگو دیں جب پھول جائیں تو بمعہ پانی دیگچی میں ڈال دیں اور ایک پاو کے قریب دودھ ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں جب خوب عرق نکل آئے تو اتار لیں۔ چھوہارے کھا کر نیم گرم دودھ پی کر سوجائیں۔ تین چار دن عمل کریں اس سے دماغی کمزوری بھی دور ہوجائے گی۔
الرجی/ نزلہ
میری عمر30سال ہے مجھے بچپن ہی سے الرجی یا نزلہ کی شکایت ہے۔ دھول مٹی اور دھوئیں سے میری ناک میں سوزش ہوتی ہے، پھر ناک سے پانی کی طرح ریشہ بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی رات میں بھی ناک بہنا شروع ہو جاتی ہے۔ جسے صاف کرنے کیلئے ایک رومال بھی ناکافی ہوتا ہے۔ یہ ریشہ ناک سے حلق میں گرتا ہے، جسے بار بار تھوکنا پڑتا ہے۔ میں ریشہ اتنا تھوکتا ہوں کہ پلاسٹک کا شاپر اچھا خاصا بھر جاتا ہے۔ ریشہ تھوکنے کے ساتھ ساتھ میرے سینے سے سیٹی جیسی آوازیں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے۔ بادام اور چھوہارے کھانے سے نزلہ تو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن سانس کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ بیماری کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہو گیا ہوں ۔ مہربانی فرما کر ایسا نسخہ بتائیں جس کے باقاعدہ استعمال سے میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جاﺅں میری سانس کی بیماری دور ہو جائے۔(رب نوا ز.... کراچی)
جواب :یہ دمہ کی شکایت ہے ۔کشتہ طلاءکلاں اصلی دو چاول عمدہ اصلی خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا پر ڈال کر صبح کھائیں سوتے وقت لعوق صنوبر اصلی ایک چائے کی چمچی کھائیں۔ اسطخدوس کا جوشاندہ دن میں دو بار پئیں۔ شدید ضرورت پر انہیلر یا کوئی بھی علاج ہمراہ لیتے رہیں۔ وہ تمام پرہیز کریں جو اس سلسلے میں ہم لکھتے ہیں اور غذا بھی ہمارے مشورو ں کے مطابق کھائیں۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ اگر درست علاج میسر آجائے اور غذائی پرہیز اور سردی سے مکمل بچاﺅ رہے تو شفا یابی یقینی ہے( ان شاءاللہ)۔ دمہ کوئی مستقل یا لاعلا ج مرض نہیں ہے ۔ اکثر مریضوں کو تو پرہیز کا ہی پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے؟ اکثر کے ذہن میں الرجی جیسا مبہم لفظ ہوتا ہے وہ دھویں، گرد سے بھاگتا رہتا ہے۔ سردی گرمی خشکی تری کے بنیادی فلسفے سے اس کی واقفیت صفر ہوتی ہے تو بچاﺅ اور پرہیز کیسا؟غذا کے معاملے میں چارٹ سے غذا نمبر 3 استعمال کریں ۔
نزلہ، کیرا
سوال : حکیم صاحب !عرصہ سالہا سال میں میرے گلے میں کیر ا گرتا ہے ۔ بار با رتھوکنا اور کھا نسنا پڑتا ہے ۔ سردیو ں میں اور ٹھنڈی چیز کھا نے سے مر ض بڑھ جا تاہے ۔ اس کی ابتداءکچھ اس طر ح ہوئی کہ مجھے مخصوص ایام کے دوران ایک شادی میں جانا ہو ا۔ وہا ں ہر قسم کی خوراک اور غذا کو بغیر احتیا ط سے استعمال کیا ۔ بالکل توجہ نہیں کی ۔ کئی دن تک یہ بے احتیاطی چلتی رہی ۔ پھر بھی میں نے پر واہ نہیں کی ۔ آخر کا ر میرے مخصوص ایام ڈسٹرب ہوئے اور پھر یہ نزلہ شروع ہو ا جو کہ کیرا بن گیا ۔ اب میں کسی محفل یا کسی کے گھر نہیں جا سکتی کیو نکہ با ر با ر تھوکنا معیو ب اور برا لگتا ہے ۔ اس کے لیے الرجی ٹیسٹ بھی کرا ئے ہیں ۔ لیکن افا قہ نہیں ہوا۔وقتی طور پر الر جی کی ادویا ت کھا نے سے فا ئدہ ہو جا تاہے لیکن پھر ویسے ہی طبیعت ہو جا تی ہے ۔ میری ایک ملنے والی نے آپ سے علا ج کر ایا ۔ انہیں بہت فائدہ ہوا لہذا میرے لیے کوئی دوا تجویز کریں۔ (عالیہ جبیں ، خانیوا ل )
جوا ب : سب سے پہلے تو آپ غذائی بے احتیا طی چھوڑ دیں اور خاص طور پر کھٹی ، ٹھنڈی اور بادی چیزو ں سے مکمل پرہیز کریں ۔ مندرجہ ذیل نسخہ مکمل توجہ اور دھیا ن سے کچھ عرصہ استعمال کریں ۔
ھوالشا فی : کلونجی باریک کر کے رکھیں ۔ اطریفل اسطخدوس کاایک چھوٹا چمچہ چائے والا گرم پانی کے کپ میں گھول کر اس میں ایک چو تھا ئی چمچہ کلونجی ڈال کر حل کر کے پی لیں اور او پر سے کوئی ٹھنڈا پانی یا ٹھنڈی غذا ہر گز ہر گز استعمال نہ کریں ۔ اس طر ح صبح و شام کھا نے سے قبل استعمال کریں ۔ چارٹ سے غذا نمبر 2 مکمل پرہیز کے ساتھ استعمال کریں ۔
الرجی، دائمی نزلہ اور موسم سرما
(قارئین آپ کے لیے قیمتی موتی چن کر لاتا ہوں اور چھپاتا ہوں، آپ بھی سخی بنیں اور ضرور لکھیں، ایڈیٹر: حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی)
پاکستان کے بالائی علاقے خاص طور پر اسلام آباد اور اس سے اوپر کے تمام پہاڑی علاقوں میں توت کا درخت الرجی کا سبب ہے۔ حکومت اپنی تمام کوششوں کے باوجود اس درخت کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکی۔ ایک درخت کاٹنے کے بعد اور بہت سے درخت نمودار ہو جاتے ہیں۔ کیا الرجی کا یہی ایک سبب ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ الرجی کے اسباب بے شمار ہیں۔ ہماری موجودہ مصنوعی زندگی جس میں بند گھر، غیرروشن اور تاریک کمرے، کارپٹ، مصنوعی غذائیں، مشروبات اور پرفیوم وغیرہ الرجی کی چند ایک وجوہات ہیں۔ میرا تجربہ ہے دیہات سے زیادہ شہر میں الرجی کہیں زیادہ ہے۔ آخر آلودگی بھی تو اپنا اثر کرتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر موسم سرما میں الرجی اور نزلہ کا علاج کیسے ممکن ہے اور وہ کونسے طریقے ہیں جن کو اپنا کر ہم الرجی اور نزلے سے بچ سکیں۔ یاد رکھیے ایسی غذائیں جو موسم سرما میں ان دو بیماریوں کا سبب بنتی ہیں ان سے ضرور بچا جائے۔ کھٹی، ٹھنڈی اور بادی چیزوں کا استعمال یقینا ان مریضو ں کیلئے بہت نقصان دہ ہے۔ دوران سفر ٹھنڈی ہوا، کسی تقریب میں ایسی غذاﺅں کا استعمال جو آپ کے مرض میں اضافے کا ذریعے بنے، بالکل استعمال نہ کریں۔ اینٹی الرجی گولیاں کھا کر ہم مرض کو وقتی طور پر دبا دیتے ہیں لیکن یہ اندر ہی اندر بڑھتا اور پھیلتا رہتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات وہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ دمہ اور دائمی سانس کی تنگی، سانس کا پھولنا ، نیند کی کمی، ٹینشن اور بے چینی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو اس سے دائمی کھانسی خشک یا بلغم کے ساتھ شروع ہو جاتی ہے۔ قارئین مرض دبائیں مت بلکہ اس کے اندر رہنے کی نسبت اس کا باہر نکلنا بہتر ہے۔ آج عالمی سطح پر جہاں صاف پانی کا فقدان ہے وہاں الرجی اور دائمی نزلہ بہت زیادہ ہے۔ وینس کے عظیم سائنس دان ولراسمتھ کے بقول بعض بیماریوں کو بالکل معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے لیکن وہ امراض دراصل معمولی نہیں ہوتے بلکہ ان کے مابعد اثرات عام بیماریوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ولراسمتھ مزید کہتے ہیں کہ میری معالجانہ زندگی میں اکثر تجربات میں یہ بات بار بار آئی ہے کہ میں نے پھیپھڑوں، گلے، گلینڈر اور ناک کے کینسر کے مریضوں کی ستر فیصد وجہ دراصل الرجی اور دائمی نزلہ پائی ہے اور موسم سرما میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مرطوب اور بھاری ہوا کی وجہ سے جراثیم کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ دھوپ کی کمی، نمدار فضائیں ان جراثیموں کیلئے موزوں ترین جگہیں ہیں کیونکہ گرما کے موسم میں دھوپ اور تمازت تیز ہوتی ہے اس لیے جراثیم یا تو ختم ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ آئیے یہ دیکھیں کہ ہم ان بیماریوں سے کیسے نجات حاصل کریں۔ ایک صاحب پرانی الرجی میں مبتلا تھے اور دائمی نزلہ اس کی ابتداءتھا میں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چندقطرے روغن زیتون سوتے وقت ناک کے دونوں نتھنوں میں ڈالیں اور زور سے اوپر کھینچے۔ چند روز ایسا کرنے سے انہیں بہت فائدہ ہوا اور یہ ٹوٹکہ بار بار کا آزمودہ ہے۔ اگر آپ کسی پرانی الرجی اور الرجی کے دمے میں مبتلا ہیں یا پرانے نزلے، ناک کا مستقل بند ہونا، رات کو نیند میں اس کی وجہ سے خلل پڑنا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں تو آپ اگر مندرجہ ذیل ترکیب آزمائیں تو انشاءاللہ زندگی بھر کیلئے یہ بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔ ہاں مستقل مزاجی سے کچھ عرصہ ادویات استعمال ضرور کریں۔ جلدبازی ہرگز نہ کریں۔ اطریفل اسطخدوس کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی ایک چمچہ چھوٹا ایک گرم پانی کے کپ میں گھول لیں اور تھوڑا تھوڑا کرکے پی لیں۔ دن میں تین بار یا کم از کم 2بار صبح و شام استعمال کریں۔ انشاءاللہ تعالیٰ پرانی الرجی اور پرانے نزلے کا اکسیری علاج ہے۔
ہوالشافی: پودینہ، خشک اجوائن دیسی، دونوں ہم وزن کوٹ کر سفوف تیار کریں اور آدھا چمچ دن میں تین بار پانی یا چائے کے ہمراہ استعمال کریں۔ کچھ عرصہ کے استعمال سے انشاءاللہ مرض بالکل ختم ہو جائے گا۔ اگر ٹھنڈ سے احتیاط اور مذکورہ بالا ادویات کچھ عرصہ مستقل استعمال کر لی جائیںتو موسم سرما میں یہ مرض بالکل بڑھ نہیں سکتا ۔انشاءاللہ۔
ڈسٹ الرجی سے نجا ت
یہ نسخہ اپنی بیوی کو دیا۔ اس کو چھینکیں نہیں رکتی تھی پھر کبھی چھینک نہ سنی۔ کھٹہ شریں1کلو ۔کلونجی 250گرام ۔ہالیہ 100گرام۔ کا سنی 50گرام۔ میتھرے 50گرام۔ یہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نسخہ ہے ایک چمچہ صبح وشام ،بلغم ،ڈسٹ الرجی اور نزلہ زکام میں بھی مفید ہے۔ اعصابی کمزوری کے لیے فائدہ مند ہے ۔کزن کی چچی کا بھی یہ حال تھاکہ اس کو نزلہ اور چھینکیںہر وقت آتی تھیں اس کو بھی یہی نسخہ 2ماہ تک استعمال کرایا ،سال ہوگیا پھر یہ تکلیف نہیں ہوئی۔
ضروری نہیں کہ اچھی صحت وا لے افرا د سرد ہو اﺅں کے اثرات سے بہر حال محفوظ رہیں ۔ کیونکہ ہمارے مشاہدے کے مطابق اچھے خاصے تندرست اور صحت مند حضرات بھی اس مہینے اچانک نزلہ زکا م کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ نہ صرف اچانک ہوا کا لگ جا نا یا گرم ماحول سے ایک دم سرد ماحول میں جا نکلنا ہی ہے ۔ بلکہ گرم تاثیر والی غذاﺅں میںمعمولی سی بے اعتدالی بھی اندرونی طور پر نزلہ و زکا م کی محرک و مو جب ہو جا یا کر تی ہے ۔ ایسی حالت میں جہاں سر اور نا ک وغیر ہ کو سر د ہو اﺅں سے حتی الامکان بچائے رکھنا حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری ہے۔ بلکہ ان کے جلد از جلد ازالہ کے لیے ذیل نسخہ بھی ان کے لیے بے حد سو د مند ہے ۔
نسخہ
سبز چائے چوتھائی چھوٹا چمچہ۔ سبز الا ئچی ایک عدد۔ بادیاں خطائی چوتھا ئی چمچہ ۔ دار چینی چار رتی ۔ پانی ایک پا ﺅ ۔ تین چار جو شیریں ، ہلکی سی چینی ملا کر دن میں تین مرتبہ حفظ ما تقدم کے طور پر استعمال کریں ۔ اگر ہو سکے تو خمیرہ گا ﺅ زبان 4/4 ماشہ دن میں تین مرتبہ استعمال کریں ۔ اگر سر در د تیز ہو تو اس قہو ہ میں تین ما شے کے قریب اسطخدوس کا اضافہ کر دیں۔ اورصحت یاب ہو جا ئیں۔ اگر ہلکا سا بخار بھی ساتھ ہو تو گل بنقشہ ، عنا ب ، ملٹھی کا جوشاندہ پیئں غذا نرم اور بغیر چکنا ئی کے کھائیں ۔
میرا نزلہ عبقری سے درست ہوا
مجھے نزلہ رہتا تھا بلکہ اب تو بہت کم ہوتا ہے کیونکہ آپ کے رسالے عبقری میں میں نے شہد اور ادرک کاقہوہ پڑھا تھا وہی علاج کرتی ہوں الحمدُ ﷲبہت فرق پڑا ہے۔
اﷲتعالیٰ” عبقری “رسالے کو ترقی عطافرمائیں (آمین ثمہ آمین)اور ایک آزمایا ہوا علاج لکھ رہی ہوں ہوسکے تو عبقری میں شائع کردےجئے شاید کسی پریشان حال بیمار کو شفا مل جائے۔کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ چونکہ مجھے نزلہ ہی رہتا تھا تو میرا گلا آگے کی طرف سے بڑھنے لگا۔ زیادہ نہیںبڑھا تھا۔ بار بار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا تھا میں بہت پریشان تھی ڈاکٹر کہتے تھے کہ آپریشن ہوگا کیونکہ تھائی رائےڈ گلینڈز کا مسئلہ ہے۔ مگر میں بہت پریشان تھی۔ایک دن یونہی ایک ڈاکٹر کو دکھایا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تو ابتداءہے آپریشن نہ کرواﺅ بلکہ ایسا کرو کہ ایک کچی پیاز بغیر دھوئے کاٹ کرکھانے کے ساتھ روزانہ دوپہرکے وقت استعمال کرو ۔میں نے ویسا ہی کیا اور تیسرا مہینہ پیاز کھاتے نہ گزرا تھاکہ گلا بالکل ٹھیک ہو کر اپنی اصلی حالت پر آگیا۔
نزلہ زکام
-1 نزلہ زکام کی صورت میں نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر دن میں تین بار غرارے کریں۔
-2 آٹے کا چھان 6 گرام ایک کپ پانی میں جوش دیں۔ چھان کر نمک شامل کر کے گرم گرم پئیں اور چادر اوڑھ کر لیٹ جائیں تاکہ کھل کر پسینہ آجائے۔
-3 تخم کتان 12گرام ‘کا کڑاسنگھی 12 گرام‘ ملٹھی مقشر6 گرام سفوف بنا کر ½یا 1 گرام پانی کے ساتھ تین وقت نزلہ و زکام اور کھانسی میں بے حد مفید ہے۔
-4 نزلہ زکام میں ایک وقت کا فاقہ بھی مفید ہے۔
نزلہ و زکام کے لیے
نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال ازحد مفید ہے۔ صبح وشام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کرکے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔
نبوی صلی اللہ علیہ وسلم راز ! صرف دکھی مریضوں کے لیے
دائمی قبض ،گیس ،تبخیر کے مریض تو آنکھیں بند کر کے یہ تحفہ استعمال کریں۔ یہ نسخہ اس وقت بھی کام کرتا ہے جب تمام دوائیاں عارضی فائدے کے بعد اپنے دائمی فوائد کھو چکی ہوں اور مریض عاجز آگئے ہوں۔ سینے کی جلن، گیس تبخیر، پیٹ کا بڑھنا، خواتین میں سرنیوں اور رانوں کا موٹاپا ، دائمی قبض اور کھٹے ڈکار آتے ہوں اور کوئی چیز ہضم نہ ہوتی ہو۔ غذا جزوبدن نہ بنتی ہو ،جسم میں خون کی کمی ہو، ایسے تمام عوارضات میں یہ نسخہ نہایت بھروسے اور اعتماد سے استعمال کریں۔ اس کے اثرات دیکھ کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی۔ جب چہرہ ویران، داغ دھبے، چھائیاں اور کیل مہاسے جان نہ چھوڑرہے ہوں، وہاں یہ دوائی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت، رحمت اور کرم کا درجہ رکھتی ہے۔
نوٹ
قارئین !ایک مختصر دوائی کے اتنے فائدے ہیں کہ شاید آپ شک میں پڑ جائیں لیکن آزمائیں ۔ ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ جلدی نہ کیجئے گا ۔اعتماد اطمینان اور کچھ عرصہ تسلی سے ضرور استعمال کریں۔
ھوالشافی
انجیر 3دانے، سونف آدھا چمچ چائے والا ،سبز پودینہ دیسی ایک گٹھی، (پتے اور شاخ سمیت) پودینہ کی گٹھی اور انجیر ٹکڑے ٹکڑے کرکے 2کپ پانی میں بھگو دیں ۔صبح ابالیں جب ایک کپ باقی بچے تو اتار کر ٹھنڈا کر کے خوب مل چھان کر حسب ضرورت میٹھا ملائیں ورنہ ایسے ہی چسکی چسکی یا گھونٹ گھونٹ پئیں ۔ایسا دن میں 3سے 4بار استعمال کریں۔ چند ہفتے موسم گرما میں اسی طرح رات کو تیز ابلتے پانی میں بھگو دیں صبح خوب مل چھان کر میٹھا ملائیں، ایسے ہی پی لیں گرم نہ کریں۔
یورک ایسڈ اور دردو ں سے نجا ت
سونف ،ملٹھی اور سورنجاں شریں کو ہموزن یورک ایسڈ معد ے کے لیے قبض کے لیے صبح ،دوپہر، شام ایک ایک چمچہ چھوٹا دودھ نیم گرم کے ہمراہ۔گھٹنو ں کے درد،کمر اور جوڑوں کے درد خاص طور پر معدے اور یورک ایسڈ کے مرےضوں کے لیے یکساں مفید ۔ایسے بہت سے مریض جنہوں نے بے شما ر ادویا ت کھائیں لیکن اندر کی تپش ختم نہیں ہوئی۔ سیاہ چہرہ جلا ہواجسم 15-20 دن میں بالکل تندرست ہو گیا۔ تقریباً دو سال سے کئی لوگوں کو دیا بہت نفع مند ثابت ہوا۔
انار کھائیے ‘ بیماریاں بھگائیے (حکیم محمدعثمان)
ایک انار اور سو بیمار کا محاورہ آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ یہ صرف ایک محاورہ نہیں بلکہ اپنے اندر شفائی‘ غذائی اور دوائی کی ایک سو سے زیادہ بیماریوں کے علاج معالجہ اور صحت و تندرستی کی خوبیاں رکھتا ہے۔
انار کے طبی خواص
نزلہ بخار کیلئے:انار کا شربت اور گاڑھا گاڑھا عرق (جمایا ہوا) شراب کے خمار کو دور کرتا ہے۔ شیریں انار کے پتوں کو سائے میں خشک کرکے شہد ملا کر گولیاں بنالیں۔ ایک گولی منہ میں رکھ کر چوسیں نزلہ بخار کو فائدہ ہوگا۔
امراض چشم
آنکھیں دکھیں تو انار کی پتیاں پیس کر اس کی ٹکیہ بنا کر آنکھوں پر باندھنے سے آشوب چشم کو فائدہ ہوگا۔
٭شیریں انار کا پانی ایک بوتل میں بھر کر دھوپ میں رکھیں جب وہ گاڑھا ہو جائے تو اسے آنکھوں پر لگایا جائے۔ اس سے آنکھوں کی روشنی میں اضافہ ہوگا۔ بصارت قوی ہوگی یہ جتنا پرانا ہوگا اتنا ہی مفید ہوگا۔
٭ کھٹے انار کو نچوڑ کر پانی (عرق) نکالیں اور برتن میں ڈال کر پکائیں جب وہ گاڑھا ہوجائے تو اسے آنکھوں میں لگائیں۔ یہ دھند کو مفید ہے۔٭ انار دانہ کو پانی میں بھگو کر یہ پانی آنکھوں میں لگانے سے آشوب چشم کو فائدہ ہوتا ہے۔
٭ اگر اس کے پھول اور کلیاں تین عدد روزانہ ایک ہفتہ تک نگل لیا کریں تو اس عمل سے سال بھر تک آشوب چشم کا عارضہ نہیں ہوتا۔
امراض کان
انار شیریں کے دانوں کا پانی شہد کے ساتھ ملا کر کان میں ڈالنے سے کان کے درد کو آرام ہوجاتا ہے۔
٭ انار ترش کا پانی کان میں ٹپکانے سے کان کا درد رفع ہوتا ہے۔ اگر اس میں تھوڑا سا شہد ملا کر ڈالیں تو زیادہ مفید ہے۔
امراض ناک
اگر ناک کے اندر پھنسیاں ہوں تو انار شیریں کا پانی ٹپکانے سے فائدہ ہوتا ہے۔
٭ اس کا پانی ناک میں ٹپکانے سے نکسیر بند ہوجاتی ہے۔
امراض منہ
اگر منہ میں چھالے پیدا ہوجائیں جسے منہ آنا کہتے ہیں تو انار ترش کے پانی سے کلیاں کرنے سے آرام ہوتا ہے۔
٭ اگر ترش انار کو مع چھلکے پانی میں جوش دے کر اس سے کلیاں کریں تو مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں اور ان سے خون آنا بند ہوجاتا ہے۔
امراض سینہ
انار شیریں کا پانی اوراس کا شربت پینے سے درد سینہ اور کھانسی رفع ہوجاتی ہے۔ اس کا چوسنا درد سینہ اور پرانی کھانسی کیلئے مجرب علاج ہے چنانچہ انار شیریں میں شکر اور روغن بادام شیریں ملا کر پینے سے پورا فائدہ ہوتا ہے۔
امراض قلب
آب انار شیریں اور اس کا شربت مقوی قلب ہے اور خفقان قلب کو رفع کرتا ہے۔ اس طرح انار ترش بھی خفقان گرم میں مفید ہے۔
معدے کی بیماریاں
شربت انار مقوی معدہ ہے۔ بخارات معدہ کو رفع کرتا ہے۔٭ انار شیریں کے رس میں قدرے شکر چھڑک کر پینے سے تسکین ملتی ہے۔٭ انار کے رس میں شہد ملا کر پینے سے بھوک خوب لگتی ہے۔٭ ترش اور کھٹ میٹھا انار بھی مقوی معدہ ہے۔ اس کے کھانے سے ہچکیاں بند ہوجاتی ہیں۔
قے اور دست
سالم انار مع پوست نچوڑ کر پینے سے دست بند ہوجاتے ہیں۔ نیز یہ شربت بواسیر کو بھی فائدہ دیتا ہے۔ اگر بخار کی وجہ سے قے اور دست آرہے ہوں تو انار ترش کھانے اور اس کا عرق پینے سے فائدہ ہوتا ہے۔٭ اگر انار کو پانی میں بھگو کر اس پانی کے ساتھ استنجاءکریں تو بواسیر بند ہوجاتی ہے۔
امراض جگر و طحال (تلی)
انار شیریں‘ یرقان‘ طحال(تلی) اور استسقاءمیں مفید ہے۔ استسقاءمیں جہاں دوسرے میوہ جات کھانے کی اجازت نہیں وہاں مریض کیلئے سالم انار نا صرف جائز ہے بلکہ نفع بخش ہے۔ سالم انار کو نچوڑ کر اس کا پانی چودہ تولہ سے تئیس تولہ تک لیں اور اس میں تین تولہ سے چھ تولے تک شکر سفید ملا کر مریض کو پلانے سے صفرا دستوں کی راہ نکل جاتا ہے اور معدے کو قوت پہنچتی ہے۔ اس مقصد کیلئے یہ ہلیلہ زدد کی طرح کام دیتا ہے۔ انار ترش جگر کی گرمی اور جوش خون کو دور کرتا ہے۔