Tuesday, August 9, 2011

معدے کے لا علاج مریض کیلئے الہامی نسخہ

قارئین! آپ کیلئے قیمتی موتی چن کر لاتا ہوں اور چھپاتا نہیں‘ آپ بھی سخی بنیں اور ضرور لکھیں (ایڈیٹر حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی)

میںحسب معمول مریض دیکھنے میں مصروف تھا ایک عمر رسیدہ خاتون نے بازو آگے کیا کہ میری نبض دیکھیں۔ نبض دکھانے کے بعد کہنے لگی کہ تیس سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے اور میں معدے کی پرانی مریضہ ہوں بہت علاج معالجہ کیا لیکن افاقہ نہیں ہوا پھر ایک دن مجھے بہت بوڑھی خاتون نے بتایا کہ کوئی تعویذات اور عملیات کی پرانی کتاب میرے پاس ہے جب بھی کوئی مشکل ہوتی ہے تو اس میں استخارہ کا ایک عمل ہے میں وہ پڑھ کر سو جاتی ہوں اور مجھے کچھ اشارہ مل جاتا ہے۔ لہٰذا تم بھی ایسا کرو کہ یہ عمل پڑھ کر سو جائو تین راتیں حد سات راتوں میں ضرور تمہارا کام بن جائے گا اور تمہیں کچھ نہ کچھ نظر آجائے گا۔
خاتون کہنے لگی کہ میں نے پہلے تو اس کی بات پر عمل نہ کیا اور ادویات لیتی رہی جیسا کہ ابھی آپ سے گھٹنوں کے درد کی دوائی لینے آئی ہوں پھر جب اس مرض نے زیادہ تنگ کیا تو میں نے اس خاتون سے رابطہ کیا اور اس سے وہی روحانی عمل لیا اور روزانہ رات کو پڑھنا شروع کردیا۔ میں نے ایک رات پڑھا لیکن مجھے کچھ محسوس نہ ہوا صبح اٹھ کر مایوس ہوگئی لیکن پھر دل میں خیال آیا کہ اس نے کہا تھا کہ تین راتیں حد سات راتیں یہ عمل ضرور کریں میں نے دوسری رات پھر پڑھنے کا ارادہ کیا۔ دوسری رات اوراسی طرح تیسری رات میں عمل پڑھتی رہی اور اس امید کے ساتھ کہ میری مشکل ضرور حل ہوگی۔ پانچویں رات میں نے ایک طویل خواب دیکھا اور بیدار ہوئی تو وہ تمام خواب اور پھر وہ تمام ادویات بالکل یاد تھیں میں مطمئن تھی۔ فوراً صبح ہوتے ہی میں اس عمر رسیدہ خاتون کے پاس گئی اور اس کا شکریہ ادا کیا کہنے لگی کہ دراصل مجھے سالہا سال ہوگئے ہیں میرے والد صاحب جن کو عرصہ دراز ہوگیا اس دنیا سے رخصت ہوئے ان کے پاس یہ کتاب ہوتی تھی وہ اس کو دیکھ دیکھ کر لوگوں کو تعویذ دیتے تھے میں نے مزید دیکھا کہ جب بھی انہیں کوئی مشکل پیش آتی تھی وہ یہی عمل پڑھ کر سوجاتے تھے چند دنوں میں وہ مشکل اللہ تعالیٰ حل فرمادیتے تھے میں نے پہلے تو توجہ نہ کی لیکن ان کی وفات کے بعد مجھے ایک مشکل نے گھیرلیا اور پریشانی ازحد ہوگئی یکایک والد مرحوم کا وہ عمل یاد آیا میں نے فوراً پڑھنا شروع کردیا چند راتوں کے بعد ہی مجھے اس کا حل مل گیا۔ وہ بوڑھی خاتون کہنے لگی اس لیے یہ عمل میں نے تمہارے معدے کیلئے دیا انشاءاللہ ضرور فائدہ ہوگا۔ قارئین! اب وہ خواب ہی مختصر سن لیں۔ وہ خاتون کہنے لگی کہ حسب معمول عمل پڑھ کر میں سوگئی میں نے محسوس کیا میں بہت بیمار ہوگئی تمام عزیزواقارب میرے پاس ملاقات اور عیادت کیلئے آرہے ہیں۔ اس طرح کا روزانہ کا معمول ہے لیکن مرض بڑھتا جارہا ہے اور کسی کی سمجھ میں نہیں آتا اسی دوران ایک معالج کو لایا گیا اس نے آتے ہی کہا
اجوائن دیسی‘ سنگ دانہ مرغ۔ ہینگ مصطگی رومی‘ بڑی الائچی‘ چھوٹی الائچیگلاب کے پھول ہموزن لے کر کوٹ پیس کر پھر جتنا وزن ان تمام ادویات کا ہو اس کے برابر اسپغول کاچھلکا ملا کر محفوظ رکھیں اور آدھا چمچ سے ایک چمچہ چھوٹا دن میں دو سے تین بار استعمال کریں کھانے سے قبل یا بعد پانی کے ہمراہ چند ہفتے ۔پھر مجھے عالم خواب ہی میں یہ نسخہ استعمال کرایا گیا اور میں تندرست ہوگئی۔
قارئین !وہ نبض دکھانے والی خاتون کہنے لگی کہ یہ نسخہ آپ بھی بنائیں اور ضرور استعمال کریں۔ کہنے لگی میں نے یہ نسخہ لاعلاج معدے اور لاعلاج گیس اور بلڈپریشر کے مریضوں کو بھی استعمال کرایا میرا تین سال کا تجربہ ہے۔ میں نے وہ نسخہ لکھ لیا اور پھر یہی نسخہ لوگوں کو لکھ لکھ کر دینا شروع کردیا۔ کیونکہ آسان اجزاءہیں صرف ہینگ اصلی کی تاکید ضروری ہے اور گلاب کے پھول دیسی ہوں بعض پھولوں کا رنگ تو گلاب کی طرح ہوتا ہے لیکن خوشبو گلاب کی طرح نہیں ہوتی۔ بہرحال خوشبو سے پتا چل جاتا ہے اس طرح مصطگی رومی بھی اصلی ہو اور وہ مل جاتی ہے۔
قارئین! یقین جانیے یہ نسخہ کیا تھا واقعی کوئی اکسیر ہاتھ لگ گیا جب بھی کسی پریشان شخص کو یہ نسخہ دیا وہ بالکل صحت یاب ہوگیا میرے پاس ایک سیاسی آدمی بالکل مایوس ہوکر آئے معلوم ہوا کہ موصوف کو ہارٹ‘ شوگر‘ ہائی بلڈپریشر‘ آنتوں کا انفیکشن‘ جگر کا ورم نامعلوم کیا کیا بیماریاں تھی تحقیق پر علم ہوا یہ تمام کچھ بے قاعدہ غذا اور ہوٹل کے کھانے سے ہوا کیونکہ ان کھانوں میں معیار اور تندرستی اور صحت کم ذائقہ زیادہ۔ پھر اس ذائقے کے معیار کو سامنے رکھتے ہوئے نامعلوم کیا کیمیکل اور مصالحہ جات ڈالے جاتے ہیں۔ میں نے انہیں یہ نسخہ الہامی دیا اور کچھ ہفتے استعمال کرنے کو کہا۔ پھر دوبارہ ملاقات میں 80 فیصد ادویات چھوٹ گئیں اور مریض پہچانا نہیں جاتا تھا کہ اتنا صحت مند تھا۔ ایک مریض عمر تقریباً 47 سال موصوف ایک بڑی کمپنی کے میڈیکل ریپ تھے۔ شہر شہر پھرنا اور اپنا کاروبار کرنا۔ ان کا مسئلہ یہ تھا کہ کوئی کھایا پیا ہضم نہیں ہوتا تھا اور بھوک نہیں لگتی تھی پیٹ پھولتا جارہا تھا جسم بڑھتا اور موٹاپا چھارہا تھا۔ چہرہ بے رونق اور مردہ۔ ساتھ ہی دل کے امراض اور ہائی بلڈپریشر‘ بے خوابی‘ ڈیپریشن اور ٹینشن نے مزید گھریلو زندگی کو جہنم بنادیا تھا۔ ان کے حالات کو سامنے رکھ کر یہی نسخہ استعمال کرایا اور کچھ عرصے بعد مریض کے حالات بہت اچھے ہوگئے کہنے لگا کہ اب احساس ہوا ہے کہ میں زندہ لوگوں کی فہرست میں ہوں ورنہ میں نے آج تک سکھ کا سانس لیا ہی نہیں تھا۔ وہ خواتین جو موٹاپے‘ معدے کی گیسبادی‘ بھوک کی کمی‘ دائمی قبض یا غذائی بدہضمی بے خوابی اور حتیٰ کہ ایام میں بے قاعدگی یا رکاوٹ محسوس کرتی ہوں۔ چند ہفتے باقاعدگی سے یہ نسخہ استعمال کریں۔ اس طرح مردوں کیلئے بھی یہ فارمولہ کہ جن کا کام ٹینشن اور اعصابی کھچائو دبائو کا ہے معدے کے پرانے مریض ہیں جگر کا نظام متاثر ہے۔ بے خوابی‘ پریشانی اور جسمانی اعصابی بے طاقتی اور کھچائو کے مریض ہوں حتیٰ کہ تجربات میں تو یہ سفوف بواسیر دائمی ہر قسم پر بہت موثر ثابت ہوا۔ بہرحال معدے کے ہر قسم کے مریضوں میں اس کے کمالات اور فوائد بہت ہی زیادہ آزمائے گئے آپ بھی آ زمائیں اور دعائیں دیں۔

Tuesday, July 12, 2011

لکڑہضم پتھرہضم“ حقیقت میں ممکن


ہمارے معالجین نسخہ لکھتے وقت دواءکے ساتھ دعا کا بھی اہتمام کریں۔ مریض کے ساتھ پیارو محبت سے پیش آئیں کسی طمع کے بغیر نیک نیتی کے ساتھ مریض کا علاج کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور شفاءدے گا۔ مریض کی دیکھ بھال اور اس کی عیادت بھی نیکی میں شمار ہوتی ہے

معدے کی ہر قسم کی تکلیف سے نجات (نسرین غیاث‘ بہاولنگر)
یہ تقریباً 1977ءکا واقعہ ہے اس وقت میں ایف‘ اے کی طالبہ تھی والد صاحب اوکاڑہ فلور ملز میں اوورسیز تھے‘ عزیزوں میں ایک شادی تھی‘ وہاں ہم بھی شامل تھے‘ کھانے میں کوئی خرابی تھی‘ اکثر لوگ ڈائیریا کا شکار ہوئے‘ مجھے بھی معدے میں پرابلم ہوا جو رفتہ رفتہ سنگین صورت اختیارکرگیا۔ والد صاحب کبھی ایک ڈاکٹر اور کبھی دوسرے ڈاکٹر کے پاس مجھے لیکر جاتے۔ اوکاڑہ کے نامی گرامی ڈاکٹر سے علاج ہوا لیکن افاقہ نہ ہوا۔ پھر لاہور حکیموں کا علاج‘ پھر لاہور کے بڑے ہسپتالوں سے چیک اپ کروایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ زندگی امید اور ناامیدی کی نائو میں ڈگمگا رہی تھی‘ مایوسی بڑھتی جارہی تھی‘ شفاءتو کاتب تقدیر کے حکم سے ہونا تھی۔ والد صاحب سے کسی دوست نے ایک حکیم کا ذکر کیا جو رینالہ خورد میں مقیم تھے ہم وہاں چلے گئے۔
حکیم صاحب نے کافی انٹرویو کے بعد ایک پھکی دی صبح شام کھانے کے بعد لینے کو کہا۔ قدرت نے شفاءاس میں لکھ دی۔ ایک ہفتہ کھانے سے مجھے کافی حد تک افاقہ ہوا۔ دوبارہ حکیم صاحب کے پاس گئے انہوں نے علاج جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ والد صاحب نے اپنی مصروفیت کا حوالہ دیا تو بعداز اصرار حکیم صاحب نے نسخہ دینے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس وقت حکیم صاحب ساٹھ کے لگ بھگ تھے۔ میرے والد صاحب بھی اسی عمر کے تھے۔ اس وقت دونوں حیات نہیں ہیں لیکن اس نسخہ سے ہم فیض یاب ہورہے ہیں۔ اب میری عمر بھی کم نہیں ہے سوچا یہ نسخہ ڈائری یا سینے میں ہی محفوظ رہے اور میرے بعد ساتھ ہی دفن ہوجائے کیوں نا اسے فیض عام کیا جائے۔ بہت ارزاں اور خوش ذائقہ چورن ہے۔ اسے آپ بیتی کے صفحات میں جگہ دیں یا لکڑ ہضم پتھر ہضم کا موضوع دیں۔ مشکور ہونگی۔ نسخہ یہ ہے:۔
ھوالشافی: نوشادر‘ انار دانہ‘ مرچ سیاہ‘ اجوائن دیسی‘ سونف‘ گلرخ‘ زیرہ سفید‘ پودینہ‘ الائچی کلاں‘ نمک خوردنی‘ الائچی خورد‘ نمک سیاہ تمام چیزیں دو تولہ اور ست لیموں ایک تولہ لے کر ان تمام اشیاءکو باریک پیس لیں۔ پودینہ اور گلرخ آپ گھر میں بھی سکھا سکتے ہیں۔ کھانے کے بعد چائے کا چمچ ایک عدد ہمراہ پانی کھائیں ہمیشہ کیلئے معدے کی تکلیف سے محفوظ رہیں۔ اس انمول تحفہ سے فائدہ ضرور اٹھائیں۔

ھوالشافی لکھنے کے اثرات (حبیب اشرف صبوحی )
مسیح الملک حکیم محمداجمل خاں ایک بے بدل عالم‘ عظیم طبیب‘ سیاسی تحریکوں کے بہترین مزاج داں اور قوم کے بے حد درد مند رہنما تھے۔ آپ نے صرف پندرہ سال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کی۔ آپ کی زندگی کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک روز ایک دیہاتی کسی دور دراز گائوں سے علاج کی غرض سے آپ کے پاس آیا۔ اس کو دمہ کی شکایت تھی۔ آپ نے اس کی نبض دیکھی اس کے جسم کا معائنہ کیا۔ کیفیت معلوم کی اور ایک نسخہ لکھ دیا اور دیہاتی کو دے دیا کہ اس کو استعمال کرکے ایک ماہ بعد آنا۔ جب اس دیہاتی نے وہ نسخہ دیکھا تو بہت مایوس ہوا۔ حکیم صاحب سے کہنے لگا کہ میں اتنے میلوں کا سفر کرکے آیا ہوں۔ سوچا تھا کہ آپ کوئی اچھا سا نسخہ تجویز کریں گے۔ آپ نے وہی نسخہ لکھا ہے جو میرے گائوں کے حکیم نے لکھا تھا اور اپنی گٹھڑی میں سے وہ نسخہ نکال کر دکھایا۔ حکیم صاحب نے وہ نسخہ دیکھا اور کہا کہ میرے نسخے اور اس کے نسخے کے لکھنے میں بہت فرق ہے تم اس کو استعمال کرو اور ایک ماہ بعد آکر مجھے بتانا چنانچہ وہ دیہاتی چلا گیا۔
ایک ماہ بعد وہ دیہاتی آیا تو وہ بالکل تندرست تھا اس نے حکیم صاحب کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ آپ کے لکھنے اور گاو ¿ں کے حکیم کے لکھنے میں کیا فرق تھا کہ اس کے نسخہ سے مجھے آرام نہیں آیا اور آپ کے لکھے نسخے سے مجھے آرام آگیا۔
حکیم صاحب نے کہا کہ جب میں نے اس کا نسخہ دیکھا تو اس نے نسخے پر ”ھوالشافی“ (شفاءدینے والی اللہ کی ذات ہے) نہیں لکھا تھا دوسرے جتنی دیر میں تمہاری نبض اور تمہارا معائنہ کرتا رہا میں درودشریف پڑھتا رہا اور رات تہجد کے وقت میں تمہارے لیے اور تمام مریضوں کیلئے صحت کاملہ کی دعائیں کرتا رہا اور اللہ تعالیٰ پر میرا یقین کامل اور ایمان ہوتا ہے کہ شفاءاسی نے دینی ہے میرا کوئی وصف نہیں ہے۔ ہمارے معالجین نسخہ لکھتے وقت دواءکے ساتھ دعا کا بھی اہتمام کریں۔ مریض کے ساتھ پیارو محبت سے پیش آئیں کسی طمع کے بغیر نیک نیتی کے ساتھ مریض کا علاج کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور شفاءدے گا۔
مریض کی دیکھ بھال اور اس کی عیادت بھی نیکی میں شمار ہوتی ہے۔ اس بارے میں ایک حدیث شریف ہے ”مریض کی دعا فرشتوں جیسی ہوتی ہے۔“
حکیم محمد سعید جب وزیر صحت بنے تو انہوں نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام معالجین کو یہ ہدایت کی نسخہ لکھتے وقت سب سے پہلے ”ھوالشافی“ ضرور لکھیں اس جذبہ کو فروغ دینے کیلئے انہوں نے پیپر ویٹ‘ بال پوائنٹ‘ کیلنڈر اور روزمرہ کی استعمال اشیاءپر ”ھوالشافی“ لکھ کر معالجین میں تقسیم کروائیں تاکہ وہ اس کی اہمیت سے روشناس ہوں۔

Tuesday, January 18, 2011

فوڈپوائزنگ

فوڈپوائزنگ ایسی غذاوں کے استعمال سے ہوتی ہے جن میں صحت کو نقصان پہنچانے والے جرثومے یا زہریلے مادے موجود ہوں‘ جراثیم ہمارے اردگرد ہرطرف رینگ رہے ہیں‘ اس لیے معمولی قسم کی فوڈپوائزنگ ایک عام بات ہے‘ ایسی صورت میں دست لگتے ہیں اور پیٹ کا نظام تہہ و بالا ہوجاتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے بچنے کیلئے آپ یہ سمجھیں کہ ہر قسم کے جراثیم سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے لیکن یہ ممکن نہیں اور اگر آپ کسی طرح اس کا اختیار رکھتے بھی ہوں تو بھی ایسی صورت میں تمام جرثوموں سے نجات حاصل کرنا صحت کیلئے قابل قبول بات نہ ہوگی۔ یہ خوردبینی اجسام ہمارے آس پاس ہر جگہ یہاں تک کہ ہمارے کھانوں میں بھی موجود ہوتے ہیں اور بعض اوقات صحت کی بہتری کیلئے ان کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔

صحت کو نقصان پہنچانے والے جراثیم

وہ تمام غذائیں جو ہم جانوروں سے حاصل کرتے ہیں‘ علاوہ ازیں بغیر پکی ہوئی کچی غذائیں اور بغیر دھلی ہوئی سبزیاں ان تمام اشیاءمیں ایسے جراثیم ہوسکتے ہیں جو فوڈپوائزنگ کا سبب بنتے ہیں۔ فوڈپوائزنگ کی اہم وجہ جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں ہوتی ہیں۔ مثلاً گائے اور بکرے کا گوشت‘ مرغی کا گوشت‘ انڈے‘ دودھ‘ مچھلیاں اور جھینگے وغیرہ ان غذاوں میں زیادہ تر جراثیم موجود ہوسکتے ہیں ان میں سالمونیا لسٹیریا کیمپی لوبیکٹریا یا اور ای کولائی شامل ہیں۔

فودپوائزنگ کی علامات

غذائی سمیت(فوڈپوائزنگ) کے مریض میں درج ذیل علامات دیکھی جاسکتی ہیں۔ ٭ مریض کو قے یا الٹی محسوس ہوسکتی ہے۔٭ پیٹ میں مروڑ کے دورے اٹھ سکتے ہیں۔ ٭ اسہال کی شکایت ہوسکتی ہے‘ اجابت میں خون آسکتا ہے۔ ٭ بخار کی وجہ سے جسم گرم ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات غذائی سمیت کی بنا پر یہ علامتیں جراثیم سے آلودہ کھانوں کے استعمال کے چند گھنٹوں کے اندر سامنے آجاتی ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس قسم کی آلودہ غذائیں استعمال کرنے کے کئی دن بعد علامات محسوس کی جاتی ہیں‘ فوڈ پوائزنگ اگر معمولی نوعیت کی ہو تو چند دنوں میں علاج کے بعد طبیعت بحال ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات یہ معلوم کرنا دشوار ہوجاتا ہے کہ طبیعت کی خرابی کی اصل وجہ فوڈپوائزنگ ہے۔ اس سلسلے میں تھوڑی سی چھان بین کے ذریعے صحیح صورتحال معلوم کی جاسکتی ہے اگر یہ دیکھا جائے کہ جو غذا آپ نے اور دوسرے لوگوں نے بھی استعمال کی ان تمام افراد میں اسی قسم کی علامات دیکھی جارہی ہیں تو پھر یہ واضح طور پر فوڈ پوائزنگ کی شکایت ہوسکتی ہے۔

تشخیص کا طریقہ کار اور علاج

زہر خورانی کے شکار افراد جب ڈاکٹر سے رابطہ کرتے ہیں تو وہاں اس سے اس کی طبیعت کے حوالے سے بے شمار سوالات کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً اس سے یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ کب سے اس کیفیت میں مبتلا ہے؟ گزشتہ چند روز میں اس نے کیا چیزیں کھائیں؟ کیا گھرانے کا کوئی دوسرا فرد بھی اس طرح بیمار ہے؟ یہ بھی ممکن ہے کہ ڈاکٹر ٹھوس نتیجے پر پہنچنے کیلئے مریض کے فضلے اور پیشاب کی طبی جانچ کرے تاکہ ان ممکنہ جرثوموں کاسراغ لگایا جاسکے جو فوڈ پوائزنگ کاباعث بنے ہیں جن مخصوص جراثیم کی وجہ سے طبیعت خراب ہو ان سے نمٹنے کیلئے دوائیں دی جاتی ہیں لیکن بیشتر اوقات ادویات کی ضرورت نہیں پڑتی‘ مریضوں کو اس وقت ہسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے جب دستوں اور الٹیوں کی وجہ سے ان کے جسم سے بڑی مقدار میں پانی نکل جاتا ہے ہسپتال میں انہیں رگوں کے ذریعے سیال غذا فراہم کی جاتی ہے۔
بار بار کی اجابتوں سے مریض کے جسم سے نمکیات نکل جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے یا پانی کی کمی سے گردے بیکار ہوسکتے ہیں۔ اس کا حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ مریض کو نمک اور گلوکوز کا مرکب پانی میں گھول کر بار بار پلائیں۔ پاکستان میں او آر ایس کے نام سے مشہور ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسہال کے ایک مریض کا ذکر کیا گیا جس کیلئے آپ نے شہد تجویز فرمایا اور کچھ عرصہ شہد پینے کے بعد وہ شفایاب ہوگیا۔
شہد ایک مکمل غذا ہونے کے ساتھ جراثیم کش دوا بھی ہے اس میں وہ تمام معدنیات اور نمکیات پائے جاتے ہیں جو جسم انسانی میں موجود ہوتے ہیں جب قے اور دست کے ذریعہ جسم سے پانی خارج ہوتا ہے تو صرف عام خوردنی نمک نہیں نکلتا بلکہ اس عمل میں کئی اور کیمیاوی مرکبات اور جوہر بھی ہوتے ہیں جن کی تفصیل کا ابھی مکمل اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا ان کی کمی کسی ایسے سیال سے پوری کرنی چاہیے جس میں وہی کچھ موجود ہو جو جسم سے خارج ہوا ہے تو یقین جانیے کہ شہد کو ابلے پانی میں حل کرکے پلانے سے بہتر آج تک کوئی دوائی ایجاد نہیں ہوئی۔
بیماری کے دوران شہد دینے سے نہ صرف یہ کہ مریض کو بعد میں کسی قسم کی کوئی کمزوری نہ ہوئی بلکہ وہ بیماری کے دوران بھی چلتا پھرتا رہتا ہے اور جسم سے نکلے ہوئے تمام نقصان پورے ہوجاتے ہیں۔ شہد کے ساتھ اگر سرکہ کا اضافہ کرلیا جائے تو فوائد دو چند ہوجاتے ہیں۔ اپنے اثرات کے لحاظ سے سرکہ جراثیم کش اور دافع تعفن ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکہ کو بہت اہمیت دی ہے اس کی افادیت میں متعدد احادیث موجود ہیں۔

فوڈ پوائزنگ سے بچنے کی چند تراکیب

گھر پر غذا دھونے اور کھانا پکانے سے لے کر انہیں محفوظ رکھنے تک ایسے بے شمار مراحل ہیں جہاں پر غذائیں آلودہ ہوسکتی ہیں ان سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ کھانا پکانے سے پہلے ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھولیا جائے۔ پھل یا کچی سبزیاں استعمال کرنے سے پہلے انہیں اچھی طرح دھونا ضروری سمجھا جائے۔ کھانے کی تمام چیزوں میں گوشت سب سے جلدی خراب ہوتا ہے‘ گرم موسم میں تو پکا ہوا گوشت بھی تھوڑی دیر بعد کھانے کے قابل نہیں رہتا‘ بازاروں میں دیگچے رکھ کر بیچنے والوں میں سے اکثر کے سالن دو گھنٹوں کے بعد کھانے کے قابل نہیں رہتے۔ اگر کھانے کے دوران گوشت یا چکن کچا محسوس ہو یا اس کے اندر کی گلابی رنگت جھلک رہی ہو تو اسے نہیں کھانا چاہیے اور اگر کوئی خلاف معمول ناگوار بوآرہی ہو تو اسے بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
دودھ میں اگر ترشی محسوس ہوتوہرگز استعمال نہ کریں‘ فریج کے اندر موجود کسی غذا پر اگر سبز‘ گلابی‘ سفید یا بھورے رنگ کی پھپھوند موجود ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ غذا خراب ہوچکی ہے۔ اگر آپ فریج میں رکھی باقی ماندہ غذا کھانا چاہتے ہیں تو اسے استعمال سے پہلے اچھی طرح گرم کرلیں تاکہ فریج میں اس دوران جن جرثوموں کی اس میںافزائش ہوچکی ہے وہ ختم ہوجائیں۔ باہر کھانا کھانے سے ممکنہ حد تک اجتناب کیا جائے۔ پینے کیلئے پانی ہمیشہ ابال کر استعمال کریں کیونکہ زیادہ تر بیماریاں آلودہ پانی سے پھیلتی ہیں۔اپنی غذا میں سرکہ‘ شہد اور کھجور لازمی استعمال کریں۔

Thursday, January 6, 2011

بواسیر اور قبض سے نجات پانے والے

حسب وعدہ میں اس مرض کے علاج اور حفاظتی تدابیر کو لیکر آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔ مرض پر قابو پانے کے سلسلے میں سادہ غذا‘ بدن کی مالش‘ غسل‘ دائمی ورزش (پیدل چلنا) ہضم کی اصلاح ‘کھانے کے ساتھ پانی یا سوفٹ ڈرنکس سے پرہیز‘ بازاری مصالحے جو بریانی یا قورمہ میں استعمال ہوتے ہیں کا استعمال بند‘ معمولی چارپائی یا بید کی کرسی۔ گاڑی کے استعمال کے وقت بید کی بنی ہوئی ٹیک۔ ایلومینیم کے برتنوں میں کھانا پکانا۔ ایلومینیم کے برتن میں کھانا پکانے سے انسان میں قبض شدید پیدا ہوتی ہے‘ یہ کھانا جسم میں شدید عوارض پیدا کرتا ہے۔ ہندو گھرانوں میں کھانا ایک تھالی میں چھوٹی کٹوری میں سالن ہوتا ہے۔ عموماً ایک چھوٹی چپاتی ہوتی ہے‘ بندہ پاکستان میں کئی ہندوﺅں کے گھر گیا مشاہدہ کیامثلاً چار ڈاکٹروں کی فیملی اکٹھی رہتی تھیں ۔ کل آٹھ افراد اور کھانے میں 9 چپاتی اور ایک لوہے کی کڑھائی میں آدھ پاﺅ بھنڈی کا سالن‘ یہ تھا کل آٹھ افراد کا کھانا جبکہ ہمارے یہ ایک آدمی کا کھانا، بھی کم ہے ۔ ہندو ایک لسوڑہ سے پوری چپاتی کھا لیتا ہے جبکہ ہمارے ہاں ایک نوالا ایک لسوڑے کا ہوتا ہے۔ دھتر وئید ہندوﺅں میں مشہور سنیاسی تھا اس نے کہا ہے ۔
سونٹھ سہاگہ کالا لون ہنگ بھی ڈالو اس بھون
چار باﺅ چوراسی سول کہئے دھتر رہے نہ مول
دفتر وئید کی تشخیص تھی کہ جسم میں چار قسم کی گیس ہوتی ہے اور 84 قسم کے درد ہوتے ہیں۔ ان سب کےلئے سونٹھ سہاگہ کالا نمک اور بھنی ہوئی ہنگ چاروں ہموزن لے کر لیموںکے رس میں بھگو کر خشک کر لیں ہر کھانے کے آدھ گھنٹہ بعد 3 ماشہ استعمال کرنے سے گیس اور درد ختم ہو جائیگا۔ کارخانہ قدرت میں اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزوں میں فائدہ اور نقصان اکٹھا رکھا ہے۔ جیسے بڑی آنت میں خرابی سے قبض ‘بڑھاپا ‘ بواسیر وغیرہ جیسے امراض جلد میں پیدا ہو جاتے ہیں دو چیزوں ” کوا“ اور ”کچھوہ“ میں یہ آنت سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی اس لئے ان میں یہ بیماریاں بھی نہیں ہوتیں۔ فعل ہضم میں قدرت نے منہ سے لے کر معدہ تک کئی قسم کے غدود پیدا کئے ہیں۔ کھانا چبا کر کھانے سے منہ سے مختلف قسم کی رطوبت شامل ہونی شروع ہو جاتی ہے معدہ میں ترش اور کھاری دو طرح کی رطوبت پیدا ہوتی ہے۔ جب تک ان کی پیدائش ایک خاص نسبت تک رہتی ہے ‘ ہضم کی حالت اچھی رہتی ہے لیکن ایک اگر ان میں سے کسی رطوبت کی پیدائش کم یا زیادہ ہو جائے تو ہضم خراب ہو جاتا ہے اگر ترشی زیادہ ہو تو پیٹ میں گیس‘ قراقر کی تکلیف رہتی ہے ‘ سینہ جلتا ہے جسے عام طور پر کلیجہ جلنا کہتے ہیں۔ کھٹی ڈکاریں آتی ہیں‘ قبض ہو جاتا ہے ‘ اگر کھاری رطوبت زیادہ ہو جائے تو عموماً پیاس زیادہ لگتی ہے۔ بھوک مر جاتی ہے۔ کبھی دست لگتے ہیں۔ آنتوں میں کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔
بادی بواسیر کے مریض کو کچا پیاز سلاد کے طور پر نہیں کھانا چاہیے۔ قبض نہیں ہونی چاہیے ‘ جہاں تک ہو سکے کھانے میں سادگی ہو یعنی مرچیں ‘ کھٹائی اور گرم مصالحے کم سے کم ہوں ‘ مریض کے لئے سبزی کی ترکاری گوشت سے بہت بہتر ہے۔ ثقیل غذائیں گائے‘ بھینس کا گوشت‘ بینگن‘ پیاز‘ لہسن‘ مسور کی دال ‘ چھوہارہ‘ اچار ‘ چٹنی ‘ کباب‘ شراب ‘بھنڈی‘ زیادہ ترش زیادہ شیریں اشیائ‘ سرکہ‘ بازاری مصالحے کھانے سے پرہیز کریں۔ اسپغول‘ روغن بادام‘ ثابت اسپغول (اسے چبانا نہیں نہ ہی کوٹنا ہے چبانے اور کوٹنے سے زہریلا ہو جاتا ہے) سناءمکی اور ایلوے سے بچنا چاہیے۔ ناف‘ ناک ‘ مقعد پر تیل لگائیں‘ مریا ہلیلہ کھاتے وقت دھو کر استعمال کریں تاکہ زیادہ چینی نقصان نہ کرے۔ جوارش کمونی‘ حب مقل‘ معجو ن مقل‘ جوارش خبث الحدید‘ معجون دبیدور‘ کاسر ریاح ادویات کا استعمال‘ ہضم کی اصلاح کی جائے۔ تخم جرجیر (تارہ میرا) صبح و شام ایک ماشہ پانی سے استعمال کرنے سے بھی بہت فائدہ ہوتا ہے یا یہ نسخہ میں مفید پڑتا ہے۔ پیپل‘ سیاہ مرچ‘ سفید مرچ‘ سیاہ زیرہ‘ سیاہ نمک‘ رائی‘ ہالوں‘ تخم مولی‘ ہیرا ہینگ نوشادر‘ کلونجی سب کو ایک تولہ پیس کر شربت عناب (ہر کوئی قوام نہیں بنا سکتا یہ ایک فن ہے) میں کر رکھ لیں ہر کھانے کے بعد آدھ چمچ چائے والا استعمال کریں۔ لذیذ اور مفید ہے۔ رات کو قبض کیلئے تخم اسپغول ثابت استعمال کریں یا آدھ تولہ تخم بالنگاہ ایک پاﺅ گرم دودھ سے استعمال کریں یہ ریاح کو جذب کرتا ہے‘قبض بھی نہیں رہتی۔ کاسر ریاح ادویات‘ ہاضمہ کی ادویات ‘ قبض کی ادویات اکٹھی پڑتی ہیں۔

پیاز اور شہد سے کھانسی ختم

ایک یا دو پیاز لے کر آگ پر بھون لیں جب اس کا بیرونی چھلکا جل کر سیاہ ہو جائے ‘ اس بیرونی جلے ہوئے چھلکے کو اتار کر پھینک دیں اور اندرونی حصہ پیاز کو خوب رگڑ کر باریک کر لیں اور اس میں ہم وزن شہد ملا کرایک چمچ صبح و شام مریض کو دیں انشاءاللہ پہلی خوراک میں شفاءہو گی۔

Sunday, January 2, 2011

عقیدے اور زمزم سے شفایابی

عقیدے اور زمزم سے شفایابی

ایک صاحب پرانی کمر درد میں مبتلا تھے۔ عرصہ دراز سے حصول شفا کے لئے ہر در کو چھانا۔ کئی طبی روحانی اورسائنسی تدابیر اختیار کیں لیکن شفا بالکل نہ ملی۔ کسی نے ڈسک پرابلم، کسی نے پٹھوں اور کمر کے عضلات کا کھنچائو، کسی نے کیا کہا اور کسی نے کیا۔ آخر کار ایک صاحب ملے جو اسی مرض میں مبتلا اور پھر شفا یاب ہوئے، وہ کہنے لگے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ میں خود اس مرض میں مبتلا تھا حتیٰ کہ جھکنا تو بڑی بات ہے چلنا پھرنا بھی دوبھر ہو گیا تھا۔دن رات اس پریشانی میں مبتلا، کسی پل چین اور سکون نہیں ملتا تھا۔ کاروبار زندگی ٹھپ ہو گیا۔ کبھی انجکشن ،کبھی گولی۔ کوئی ترکیب اور تدبیر نہ چھوڑی۔ ایک تاجر نے مجھے کہا کہ میں بھی اسی مرض میں مبتلا تھا مجھے کسی نے بتایا کہ خالص زم زم خالص عقیدہِ شفا کے ساتھ چند گھونٹ یا جتنا میسر ہو دن میں 3بار( اول و آخر دو بار درود ابراہیمی ایک بار سورہ فاتحہ 3بار سورة اخلاص پڑھ کر) پی لیں ۔ خواتین بھی یہ عمل ہر حالت میں پڑھ اور کر سکتی ہیں۔
جب میں نے ایسا کرنا شروع کیا تو چند ہی دنوں میں مجھے شفایابی کی قوی امید نظر آئی اور بتدریج شفایاب ہونے لگا اور آج میرا حال یہ ہے کہ الحمد للہ میں بالکل صحت مند ہوں۔ میرے دیکھنے والے حیران ہیں۔قارئین کرام! موصوف سے جب یہ حال سن رہا تھا تو اس جیسے بیشمار واقعات ذہن میں گردش کرنے لگے اور بار بار قلم اٹھانے کو دل چاہا کہ کیوں نہ ان واقعات کو سمیٹ کر قارئین کی خدمت میں پیش کر دوں اور کائنات کے لوگوں کو بتائوں کے عقیدے سے شفایابی کا بہترین ذریعہ زم زم ہے۔
دوحہ قطر کے ایک صاحب نے اپنا واقعہ بیان کہا کہ ان کے خالو بیک وقت بے شمار امراض میں مبتلا ہو گئے۔ طرح طرح کے علاج کیے۔ مالدار تھے آخر امریکہ کے ایک بڑے ڈاکٹر سے وقت لیا اور علاج کی غرض سے وہاں گئے۔ اچھے وقت میں 9لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ وقتی آرام کے بعد مرض پہلے سے زیادہ غلبہ اختیار کر گیا۔ اب حالت بالکل مایوسی تک پہنچ گئی۔ کسی نے یہ زم زم والی ترکیب بتائی۔ چونکہ ہرطرف سے مایوس ہو چکے تھے اس لئے بہت بھروسے اور اعتماد سے زم زم کا روحانی علاج شروع کیا۔ ایک رات پیٹ میں سخت مروڑ اٹھا اور یہ بھول گئے کہ میں مریض ہوں اور میں تو چل پھر نہیں سکتا۔ یکایک اٹھے اوربیت الخلا میں گئے۔ بدبو دار سیاہ رنگ کا بہت مقدار میں پاخانہ آیا، فارغ ہو کر جب باہر نکلے تو احساس ہوا کہ میں تو مریض تھا اور میں چل پھر نہیں سکتا تھا اور اب یہ سب کچھ کیسے اور کیا ہوا۔ حیرت انگیز بات ہے بس ایک یقین سا دل میں اتر گیا کہ یہ اس روحانی عمل اور زم زم پر سو فیصد یقین کی شفا یابی کی تاثیر ہے۔ عمل جاری رکھا اور وہ ایسے صحت یاب ہوئے کہ لوگوں کو یقین بھی نہ آتا تھا۔ پھر موصوف نے ایک بڑی دعوت کی اور بیشمار لوگوں کو مدعو کیا اور اس عمل کے بارے میں جب بتایا تو بہت سے ڈاکٹر، انجینئر اور یورپی سائنسدان بھی اس تقریب میں شامل تھے۔ موصوف کی باتوں پر اور پھر ان کی سابقہ اور موجودہ اجلی اور نکھری صحت کو دیکھ کر لوگ حیران ہو گئے۔ 3غیر مسلم مسلمان ہوئے اور اس محفل میں موجود سرجن اور ڈاکٹر یہ عمل اپنے لاعلاج مریضوں کو بتانے لگے۔ جو صاحب یہ واقعہ مجھے سنا رہے تھے، بتانے لگے کہ میرے خالو نے ان سب ڈاکٹرز اور معالجین سے رابطہ رکھا ۔اس رابطے کے بعد جو اعداد وشمار دیئے وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ یہ وہ اعداد وشمار ہیں جو احاطے میں آسکے ورنہ اس سے فیض پانے والوں کی تعداد ہزاروں سے تجاوز ہے ( یہ اعداد وشمار انہوں نے مختلف شہروں اور ملکوں سے اکھٹے کئے)۔ کینسر کے 944 مریض، الرجی کے 392 مریض، دمہ کے 138 مریضوں، دماغی کمزوری کے 336مریض، چہرے کے بالوں اور حسن وجمال کے 521 مریض، اعصابی کمزوری اور تھکان کے 2200 مریض، خواتین میں بالوں کا گرنا 812مریض، فالج لقوہ اور بستر پر پڑے مریض 1310، ہیپاٹائٹس 723 مریض، دماغی رسولی 76مریض، ڈپریشن، ٹینشن کے 1805مریض، شیزوفرینا 218مریض، موٹاپا 1221 مریض خون کی کمی کے 107 مریض۔قارئین خالو جان نے عرصہ دراز تک رابطے اور مطالعے کے بعد مریضوں کے اعداد وشمار اکٹھے کئے۔ آپ کسی بھی مرض میں مبتلا ہوں ،بس بھروسہ اعتماد اور خالص عقیدہ ضروری ہے۔یہ عمل کچھ عرصہ لگاتار کر کے دیکھیں اور پھر اس کا کمال دیکھیں آپ نے بھی کوئی تجربہ کیا یا سنا ہو تو ضروری تحریر کریں۔

نزلہ

٭چھوہارہ بلغمی امراض کیلئے نہایت فائدہ مفید ہے۔ نزلہ زکام میں دو تین چھوہارے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرکے تھوڑے سے پانی میں بھگو دیں جب پھول جائیں تو بمعہ پانی دیگچی میں ڈال دیں اور ایک پاو کے قریب دودھ ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں جب خوب عرق نکل آئے تو اتار لیں۔ چھوہارے کھا کر نیم گرم دودھ پی کر سوجائیں۔ تین چار دن عمل کریں اس سے دماغی کمزوری بھی دور ہوجائے گی۔

الرجی/ نزلہ
میری عمر30سال ہے مجھے بچپن ہی سے الرجی یا نزلہ کی شکایت ہے۔ دھول مٹی اور دھوئیں سے میری ناک میں سوزش ہوتی ہے، پھر ناک سے پانی کی طرح ریشہ بہنا شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی رات میں بھی ناک بہنا شروع ہو جاتی ہے۔ جسے صاف کرنے کیلئے ایک رومال بھی ناکافی ہوتا ہے۔ یہ ریشہ ناک سے حلق میں گرتا ہے، جسے بار بار تھوکنا پڑتا ہے۔ میں ریشہ اتنا تھوکتا ہوں کہ پلاسٹک کا شاپر اچھا خاصا بھر جاتا ہے۔ ریشہ تھوکنے کے ساتھ ساتھ میرے سینے سے سیٹی جیسی آوازیں آتی ہیں۔آہستہ آہستہ سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتی ہے اور دم گھٹنے لگتا ہے۔ بادام اور چھوہارے کھانے سے نزلہ تو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن سانس کی تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ بیماری کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہو گیا ہوں ۔ مہربانی فرما کر ایسا نسخہ بتائیں جس کے باقاعدہ استعمال سے میں مکمل طور پر صحت یاب ہو جاﺅں میری سانس کی بیماری دور ہو جائے۔(رب نوا ز.... کراچی)
جواب :یہ دمہ کی شکایت ہے ۔کشتہ طلاءکلاں اصلی دو چاول عمدہ اصلی خمیرہ ابریشم حکیم ارشد والا پر ڈال کر صبح کھائیں سوتے وقت لعوق صنوبر اصلی ایک چائے کی چمچی کھائیں۔ اسطخدوس کا جوشاندہ دن میں دو بار پئیں۔ شدید ضرورت پر انہیلر یا کوئی بھی علاج ہمراہ لیتے رہیں۔ وہ تمام پرہیز کریں جو اس سلسلے میں ہم لکھتے ہیں اور غذا بھی ہمارے مشورو ں کے مطابق کھائیں۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ اگر درست علاج میسر آجائے اور غذائی پرہیز اور سردی سے مکمل بچاﺅ رہے تو شفا یابی یقینی ہے( ان شاءاللہ)۔ دمہ کوئی مستقل یا لاعلا ج مرض نہیں ہے ۔ اکثر مریضوں کو تو پرہیز کا ہی پتہ نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے؟ اکثر کے ذہن میں الرجی جیسا مبہم لفظ ہوتا ہے وہ دھویں، گرد سے بھاگتا رہتا ہے۔ سردی گرمی خشکی تری کے بنیادی فلسفے سے اس کی واقفیت صفر ہوتی ہے تو بچاﺅ اور پرہیز کیسا؟غذا کے معاملے میں چارٹ سے غذا نمبر 3 استعمال کریں ۔

نزلہ، کیرا
سوال : حکیم صاحب !عرصہ سالہا سال میں میرے گلے میں کیر ا گرتا ہے ۔ بار با رتھوکنا اور کھا نسنا پڑتا ہے ۔ سردیو ں میں اور ٹھنڈی چیز کھا نے سے مر ض بڑھ جا تاہے ۔ اس کی ابتداءکچھ اس طر ح ہوئی کہ مجھے مخصوص ایام کے دوران ایک شادی میں جانا ہو ا۔ وہا ں ہر قسم کی خوراک اور غذا کو بغیر احتیا ط سے استعمال کیا ۔ بالکل توجہ نہیں کی ۔ کئی دن تک یہ بے احتیاطی چلتی رہی ۔ پھر بھی میں نے پر واہ نہیں کی ۔ آخر کا ر میرے مخصوص ایام ڈسٹرب ہوئے اور پھر یہ نزلہ شروع ہو ا جو کہ کیرا بن گیا ۔ اب میں کسی محفل یا کسی کے گھر نہیں جا سکتی کیو نکہ با ر با ر تھوکنا معیو ب اور برا لگتا ہے ۔ اس کے لیے الرجی ٹیسٹ بھی کرا ئے ہیں ۔ لیکن افا قہ نہیں ہوا۔وقتی طور پر الر جی کی ادویا ت کھا نے سے فا ئدہ ہو جا تاہے لیکن پھر ویسے ہی طبیعت ہو جا تی ہے ۔ میری ایک ملنے والی نے آپ سے علا ج کر ایا ۔ انہیں بہت فائدہ ہوا لہذا میرے لیے کوئی دوا تجویز کریں۔ (عالیہ جبیں ، خانیوا ل )
جوا ب : سب سے پہلے تو آپ غذائی بے احتیا طی چھوڑ دیں اور خاص طور پر کھٹی ، ٹھنڈی اور بادی چیزو ں سے مکمل پرہیز کریں ۔ مندرجہ ذیل نسخہ مکمل توجہ اور دھیا ن سے کچھ عرصہ استعمال کریں ۔
ھوالشا فی : کلونجی باریک کر کے رکھیں ۔ اطریفل اسطخدوس کاایک چھوٹا چمچہ چائے والا گرم پانی کے کپ میں گھول کر اس میں ایک چو تھا ئی چمچہ کلونجی ڈال کر حل کر کے پی لیں اور او پر سے کوئی ٹھنڈا پانی یا ٹھنڈی غذا ہر گز ہر گز استعمال نہ کریں ۔ اس طر ح صبح و شام کھا نے سے قبل استعمال کریں ۔ چارٹ سے غذا نمبر 2 مکمل پرہیز کے ساتھ استعمال کریں ۔

الرجی، دائمی نزلہ اور موسم سرما
(قارئین آپ کے لیے قیمتی موتی چن کر لاتا ہوں اور چھپاتا ہوں، آپ بھی سخی بنیں اور ضرور لکھیں، ایڈیٹر: حکیم محمد طارق محمود مجذوبی چغتائی)

پاکستان کے بالائی علاقے خاص طور پر اسلام آباد اور اس سے اوپر کے تمام پہاڑی علاقوں میں توت کا درخت الرجی کا سبب ہے۔ حکومت اپنی تمام کوششوں کے باوجود اس درخت کو جڑ سے نہیں اکھاڑ سکی۔ ایک درخت کاٹنے کے بعد اور بہت سے درخت نمودار ہو جاتے ہیں۔ کیا الرجی کا یہی ایک سبب ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ الرجی کے اسباب بے شمار ہیں۔ ہماری موجودہ مصنوعی زندگی جس میں بند گھر، غیرروشن اور تاریک کمرے، کارپٹ، مصنوعی غذائیں، مشروبات اور پرفیوم وغیرہ الرجی کی چند ایک وجوہات ہیں۔ میرا تجربہ ہے دیہات سے زیادہ شہر میں الرجی کہیں زیادہ ہے۔ آخر آلودگی بھی تو اپنا اثر کرتی ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر موسم سرما میں الرجی اور نزلہ کا علاج کیسے ممکن ہے اور وہ کونسے طریقے ہیں جن کو اپنا کر ہم الرجی اور نزلے سے بچ سکیں۔ یاد رکھیے ایسی غذائیں جو موسم سرما میں ان دو بیماریوں کا سبب بنتی ہیں ان سے ضرور بچا جائے۔ کھٹی، ٹھنڈی اور بادی چیزوں کا استعمال یقینا ان مریضو ں کیلئے بہت نقصان دہ ہے۔ دوران سفر ٹھنڈی ہوا، کسی تقریب میں ایسی غذاﺅں کا استعمال جو آپ کے مرض میں اضافے کا ذریعے بنے، بالکل استعمال نہ کریں۔ اینٹی الرجی گولیاں کھا کر ہم مرض کو وقتی طور پر دبا دیتے ہیں لیکن یہ اندر ہی اندر بڑھتا اور پھیلتا رہتا ہے حتیٰ کہ بعض اوقات وہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ دمہ اور دائمی سانس کی تنگی، سانس کا پھولنا ، نیند کی کمی، ٹینشن اور بے چینی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ بعض لوگوں کو اس سے دائمی کھانسی خشک یا بلغم کے ساتھ شروع ہو جاتی ہے۔ قارئین مرض دبائیں مت بلکہ اس کے اندر رہنے کی نسبت اس کا باہر نکلنا بہتر ہے۔ آج عالمی سطح پر جہاں صاف پانی کا فقدان ہے وہاں الرجی اور دائمی نزلہ بہت زیادہ ہے۔ وینس کے عظیم سائنس دان ولراسمتھ کے بقول بعض بیماریوں کو بالکل معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیا جاتا ہے لیکن وہ امراض دراصل معمولی نہیں ہوتے بلکہ ان کے مابعد اثرات عام بیماریوں سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ ولراسمتھ مزید کہتے ہیں کہ میری معالجانہ زندگی میں اکثر تجربات میں یہ بات بار بار آئی ہے کہ میں نے پھیپھڑوں، گلے، گلینڈر اور ناک کے کینسر کے مریضوں کی ستر فیصد وجہ دراصل الرجی اور دائمی نزلہ پائی ہے اور موسم سرما میں اس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے۔ وہ اس لیے کہ مرطوب اور بھاری ہوا کی وجہ سے جراثیم کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع ملتا ہے۔ دھوپ کی کمی، نمدار فضائیں ان جراثیموں کیلئے موزوں ترین جگہیں ہیں کیونکہ گرما کے موسم میں دھوپ اور تمازت تیز ہوتی ہے اس لیے جراثیم یا تو ختم ہو جاتے ہیں یا پھر انہیں بڑھنے کا موقع نہیں ملتا۔ آئیے یہ دیکھیں کہ ہم ان بیماریوں سے کیسے نجات حاصل کریں۔ ایک صاحب پرانی الرجی میں مبتلا تھے اور دائمی نزلہ اس کی ابتداءتھا میں نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ چندقطرے روغن زیتون سوتے وقت ناک کے دونوں نتھنوں میں ڈالیں اور زور سے اوپر کھینچے۔ چند روز ایسا کرنے سے انہیں بہت فائدہ ہوا اور یہ ٹوٹکہ بار بار کا آزمودہ ہے۔ اگر آپ کسی پرانی الرجی اور الرجی کے دمے میں مبتلا ہیں یا پرانے نزلے، ناک کا مستقل بند ہونا، رات کو نیند میں اس کی وجہ سے خلل پڑنا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہیں تو آپ اگر مندرجہ ذیل ترکیب آزمائیں تو انشاءاللہ زندگی بھر کیلئے یہ بیماریاں ختم ہو جائیں گی۔ ہاں مستقل مزاجی سے کچھ عرصہ ادویات استعمال ضرور کریں۔ جلدبازی ہرگز نہ کریں۔ اطریفل اسطخدوس کسی اچھے دواخانے کی بنی ہوئی ایک چمچہ چھوٹا ایک گرم پانی کے کپ میں گھول لیں اور تھوڑا تھوڑا کرکے پی لیں۔ دن میں تین بار یا کم از کم 2بار صبح و شام استعمال کریں۔ انشاءاللہ تعالیٰ پرانی الرجی اور پرانے نزلے کا اکسیری علاج ہے۔
ہوالشافی: پودینہ، خشک اجوائن دیسی، دونوں ہم وزن کوٹ کر سفوف تیار کریں اور آدھا چمچ دن میں تین بار پانی یا چائے کے ہمراہ استعمال کریں۔ کچھ عرصہ کے استعمال سے انشاءاللہ مرض بالکل ختم ہو جائے گا۔ اگر ٹھنڈ سے احتیاط اور مذکورہ بالا ادویات کچھ عرصہ مستقل استعمال کر لی جائیںتو موسم سرما میں یہ مرض بالکل بڑھ نہیں سکتا ۔انشاءاللہ۔

ڈسٹ الرجی سے نجا ت
یہ نسخہ اپنی بیوی کو دیا۔ اس کو چھینکیں نہیں رکتی تھی پھر کبھی چھینک نہ سنی۔ کھٹہ شریں1کلو ۔کلونجی 250گرام ۔ہالیہ 100گرام۔ کا سنی 50گرام۔ میتھرے 50گرام۔ یہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نسخہ ہے ایک چمچہ صبح وشام ،بلغم ،ڈسٹ الرجی اور نزلہ زکام میں بھی مفید ہے۔ اعصابی کمزوری کے لیے فائدہ مند ہے ۔کزن کی چچی کا بھی یہ حال تھاکہ اس کو نزلہ اور چھینکیںہر وقت آتی تھیں اس کو بھی یہی نسخہ 2ماہ تک استعمال کرایا ،سال ہوگیا پھر یہ تکلیف نہیں ہوئی۔


ضروری نہیں کہ اچھی صحت وا لے افرا د سرد ہو اﺅں کے اثرات سے بہر حال محفوظ رہیں ۔ کیونکہ ہمارے مشاہدے کے مطابق اچھے خاصے تندرست اور صحت مند حضرات بھی اس مہینے اچانک نزلہ زکا م کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ نہ صرف اچانک ہوا کا لگ جا نا یا گرم ماحول سے ایک دم سرد ماحول میں جا نکلنا ہی ہے ۔ بلکہ گرم تاثیر والی غذاﺅں میںمعمولی سی بے اعتدالی بھی اندرونی طور پر نزلہ و زکا م کی محرک و مو جب ہو جا یا کر تی ہے ۔ ایسی حالت میں جہاں سر اور نا ک وغیر ہ کو سر د ہو اﺅں سے حتی الامکان بچائے رکھنا حفظ ماتقدم کے طور پر ضروری ہے۔ بلکہ ان کے جلد از جلد ازالہ کے لیے ذیل نسخہ بھی ان کے لیے بے حد سو د مند ہے ۔

نسخہ
سبز چائے چوتھائی چھوٹا چمچہ۔ سبز الا ئچی ایک عدد۔ بادیاں خطائی چوتھا ئی چمچہ ۔ دار چینی چار رتی ۔ پانی ایک پا ﺅ ۔ تین چار جو شیریں ، ہلکی سی چینی ملا کر دن میں تین مرتبہ حفظ ما تقدم کے طور پر استعمال کریں ۔ اگر ہو سکے تو خمیرہ گا ﺅ زبان 4/4 ماشہ دن میں تین مرتبہ استعمال کریں ۔ اگر سر در د تیز ہو تو اس قہو ہ میں تین ما شے کے قریب اسطخدوس کا اضافہ کر دیں۔ اورصحت یاب ہو جا ئیں۔ اگر ہلکا سا بخار بھی ساتھ ہو تو گل بنقشہ ، عنا ب ، ملٹھی کا جوشاندہ پیئں غذا نرم اور بغیر چکنا ئی کے کھائیں ۔

میرا نزلہ عبقری سے درست ہوا
مجھے نزلہ رہتا تھا بلکہ اب تو بہت کم ہوتا ہے کیونکہ آپ کے رسالے عبقری میں میں نے شہد اور ادرک کاقہوہ پڑھا تھا وہی علاج کرتی ہوں الحمدُ ﷲبہت فرق پڑا ہے۔
اﷲتعالیٰ” عبقری “رسالے کو ترقی عطافرمائیں (آمین ثمہ آمین)اور ایک آزمایا ہوا علاج لکھ رہی ہوں ہوسکے تو عبقری میں شائع کردےجئے شاید کسی پریشان حال بیمار کو شفا مل جائے۔کچھ سال پہلے کی بات ہے کہ چونکہ مجھے نزلہ ہی رہتا تھا تو میرا گلا آگے کی طرف سے بڑھنے لگا۔ زیادہ نہیںبڑھا تھا۔ بار بار ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا تھا میں بہت پریشان تھی ڈاکٹر کہتے تھے کہ آپریشن ہوگا کیونکہ تھائی رائےڈ گلینڈز کا مسئلہ ہے۔ مگر میں بہت پریشان تھی۔ایک دن یونہی ایک ڈاکٹر کو دکھایا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تو ابتداءہے آپریشن نہ کرواﺅ بلکہ ایسا کرو کہ ایک کچی پیاز بغیر دھوئے کاٹ کرکھانے کے ساتھ روزانہ دوپہرکے وقت استعمال کرو ۔میں نے ویسا ہی کیا اور تیسرا مہینہ پیاز کھاتے نہ گزرا تھاکہ گلا بالکل ٹھیک ہو کر اپنی اصلی حالت پر آگیا۔

نزلہ زکام
-1 نزلہ زکام کی صورت میں نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر دن میں تین بار غرارے کریں۔
-2 آٹے کا چھان 6 گرام ایک کپ پانی میں جوش دیں۔ چھان کر نمک شامل کر کے گرم گرم پئیں اور چادر اوڑھ کر لیٹ جائیں تاکہ کھل کر پسینہ آجائے۔
-3 تخم کتان 12گرام ‘کا کڑاسنگھی 12 گرام‘ ملٹھی مقشر6 گرام سفوف بنا کر ½یا 1 گرام پانی کے ساتھ تین وقت نزلہ و زکام اور کھانسی میں بے حد مفید ہے۔
-4 نزلہ زکام میں ایک وقت کا فاقہ بھی مفید ہے۔

نزلہ و زکام کے لیے
نزلہ زکام، سینے کی تکلیف اور بلغم بننے کی بیماری میں اس کا استعمال ازحد مفید ہے۔ صبح وشام دو چائے کے چمچ ایک کپ پانی میں جوش دے کر شہد سے میٹھا کرکے پی لیں۔ مسلسل استعمال سے دائمی نزلہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو استعمال کرانے سے سارا بلغم نکل جاتا ہے۔